موثر و بروقت انصاف وکلا کے تعاون سے ہی ممکن:چیف جسٹس

  موثر و بروقت انصاف وکلا کے تعاون سے ہی ممکن:چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں بار ایسوسی ایشنز کے وفود سے ملاقات، عدالتی اصلاحات پر تبادلہ خیال ای لائبریریز، ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز اور سولرائزیشن منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور

اسلام آباد (اے پی پی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ بار عدالتی نظام کا ایک بنیادی اور اہم فریق ہے اورموثر و بروقت انصاف کی فراہمی وکلا برادری کے ساتھ مسلسل تعاون اور تعمیری روابط سے ہی ممکن ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کے وفود سے ملاقات کے دوران کیا۔سپریم کورٹ بار کے صدر ہارون الرشید کی قیادت میں آنے والے وفد نے مقدمات کے انتظام اور طریقہ کار کو آسان بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ بلوچستان اور سندھ سے تعلق رکھنے والے وکلا کی سہولت کے لئے ان کے مقدمات کو ہفتے کے مخصوص دنوں میں مقرر کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے ۔ بعد ازاں راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سعید یوسف خان اور راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر طارق محمود ساجد اعوان کی قیادت میں آنے والے وفود نے بھی چیف جسٹس سے ملاقات کی جس میں لائبریری سہولیات کے فروغ اور وکلا کی استعداد کار بڑھانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیف جسٹس یحیی آفریدی نے عدالتی اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلعی سطح پر ای لائبریریز، عدالتوں کی سولرائزیشن، ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام اور صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبوں پر کام جاری ہے جنہیں اگست 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ اصلاحات کے اگلے مرحلے میں جینڈر رسپانسیو جسٹس انیشیٹو کے تحت ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کو ون ونڈو پلیٹ فارم کے طور پر مزیدموثر بنایا جائے گا ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں