نظام تبدیل کئے بغیر عوام کو حقوق نہیں ملیں گے : حافظ نعیم

نظام تبدیل کئے بغیر عوام کو حقوق نہیں ملیں گے : حافظ نعیم

معاشرتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیاں اپنانا ہونگی، نسل نو کو دین سے جوڑنا ناگزیر اختلافات بڑھانے کی بجائے مثبت انداز میں حل کئے جائیں، ملتان میں خطاب، عوامی رابطہ مہم کا اعلان

ملتان (کرائم رپورٹر )امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے نظام تبدیل کئے بغیر عوام کو حقوق نہیں ملیں گے ، معاشرتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیاں اپنانا ہونگی، نسل نو کو دین سے جوڑنا ضروری ہے ۔اختلافات بڑھانے کی بجائے مثبت انداز میں حل کئے جائیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر، ثنااللہ سہرانی اور امیر ضلع ملتان صہیب عمار صدیقی بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ عوام تبدیلی کے لئے جماعت اسلامی میں شامل ہوں، کارکن جماعت اسلامی کے دفاتر کو فعال اور عوام کی امیدوں کے مراکز بنائیں۔ کارکنان جماعت اسلامی یقینی بنائیں کہ نچلی سطح تک رابطہ عوام، براہِ راست رسائی اور عملی کام کو ترجیح دی جائے ۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ذاتی اور گھریلو دائرے میں دعوت و تربیت کے عمل کو مضبوط بنائیں ۔ جماعت اسلامی کے دفاتر فعال ہوں گے تو نوجوانوں اور عام افراد کی زیادہ سے زیادہ شمولیت یقینی بنائی جا سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ نظام کی تبدیلی کے بغیر عوام کو حقوق نہیں ملیں گے ۔ پچیس اپریل سے بھرپور عوامی رابطہ مہم کا آغاز ہوگا۔امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کوئی مفاداتی یا روایتی سیاسی جماعت نہیں بلکہ اقامتِ دین کی ایک سنجیدہ تحریک ہے ، جہاں ذمہ داری کو اعزاز نہیں بلکہ امانت سمجھا جاتا ہے ۔ انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ اپنی نیت، کردار اور ذمہ داریوں کا مسلسل احتساب کرتے رہیں۔ممبرشپ مہم کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی نے ہدایت کی کہ اسے محض رسمی سرگرمی نہ سمجھا جائے بلکہ ایک مؤثر دعوتی موقع کے طور پر لیا جائے اور زیادہ سے زیادہ افراد تک پیغام پہنچایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس فورم کا بنیادی مقصد ایسے معاملات کو سامنے لانا ہے جن پر جماعت یا نظم کو متوجہ کرنا ضروری ہو اور باہمی مشاورت کے ذریعے غلط فہمیوں کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے ۔ امیر جماعت اسلامی نے اس بات پر زور دیا کہ جماعت میں اصلاح اور احتساب کا ایک منظم اور واضح طریقہ کار موجود ہے ، جس میں سب سے پہلے باہمی سطح پر بات چیت، پھر نظم کے ذریعے مسائل کا حل اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ فورمز پر گفتگو شامل ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں