خطے میں پاکستان کا سفارتی کردارکھل کر سامنے آیا
موجودہ حالات میں امریکا کیلئے ہر معاملے میں یکطرفہ دباؤ ڈالنا نا ممکن
( تجزیہ: سلمان غنی )
اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایران نے محض عسکری طاقت کے بجائے سفارتی محاذ پر اپنی اہمیت منوائی ہے ۔ سب سے پہلے ، ایران کا امریکا کے ساتھ برابر سطح پر مذاکرات کرنا واقعی ایک اہم پیش رفت ہے ۔ عالمی سیاست میں یہ اصول رہا ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر چھوٹی ریاستوں کو دباؤ کے ذریعے اپنی شرائط منوانے کی کوشش کرتی ہیں، مگر یہاں ایران نے نہ صرف مذاکرات جاری رکھے بلکہ اپنی بنیادی پالیسیوں پر لچک بھی ظاہر نہیں کی۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ تہران اب ایک نظرانداز نہ کیے جانے والا فریق بن چکا ہے ۔تاہم یہ کہنا کہ ایران نے مکمل \"جیت\" حاصل کر لی، قدرے مبالغہ آمیز دعویٰ ہو سکتا ہے ۔ سفارتی مذاکرات میں اصل کامیابی کا انحصار عملی نتائج پر ہوتا ہے ، جیسے پابندیوں میں نرمی، اقتصادی فوائد یا سکیورٹی ضمانتیں۔ اگر یہ عوامل سامنے نہیں آتے تو محض طویل مذاکرات یا سخت موقف کو کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی صورتحال پیچیدہ ہے ۔ ایران کا مو قف اپنی جگہ مضبوط ہے کہ اس کا پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے ، لیکن عالمی برادری، خصوصاً امریکا، اسے خطے کے توازن کے لیے خطرہ سمجھتا ہے ۔ اس لیے جوہری پروگرام کو ایران کی \"طاقت\" کہنا درست ہے ، مگر یہی معاملہ اس کے لیے مسلسل دباؤ اور پابندیوں کا سبب بھی بنتا رہا ہے ۔صدر ٹرمپ کے دور میں اختیار کی گئی سخت پالیسیوں کے اثرات آج بھی امریکی حکمت عملی میں جھلکتے ہیں، لیکن بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں امریکا کے لیے ہر معاملے میں یکطرفہ دباؤ ڈالنا ممکن نہیں رہا۔ اسی تناظر میں جے ڈی وینس جیسے نمائندوں کی سفارتی پیش رفت کو مکمل ناکامی قرار دینا درست نہیں، بلکہ یہ ایک جاری عمل کا حصہ ہے ۔پاکستان کا کردار بھی اس سارے عمل میں قابلِ ذکر ہے ۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا انعقاد اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان خطے میں ایک موثر سفارتی پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، تاہم یہ کردار اسی وقت مضبوط ہوگا جب اس کے نتیجے میں دیرپا پیش رفت سامنے آئے ۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے یقیناً سفارتی سطح پر اپنی موجودگی اور اہمیت کو اجاگر کیا ہے ، مگر اسے مکمل فتح قرار دینا جلد بازی ہوگی۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا یہ مذاکرات کسی ٹھوس معاہدے ، کشیدگی میں کمی یا خطے میں استحکام کی صورت میں سامنے آتے ہیں یا نہیں۔