حکومت کی بلدیاتی الیکشن پارٹی بنیادوں پرکرانے کی یقین دہانی

حکومت کی بلدیاتی الیکشن پارٹی  بنیادوں پرکرانے کی یقین دہانی

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کے خلاف جماعت اسلامی، پی ٹی آئی و دیگر کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔۔۔

 جسٹس سلطان تنویر نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو بلدیاتی انتخابات سے متعلق ہدایت لیکر 22 اپریل کو پیش ہونے کا حکم دیا،پنجاب حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں کسی سیاسی جماعت سے امتیازی سلوک نہیں ہوگا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا چیئرمین اور وائس چیئرمین کا الیکشن براہ راست ہوگا؟ وکیل نے بتایا کہ سینیٹ ، سپیکر کا الیکشن بھی ان ڈائریکٹ ہوتا ہے ، منتخب نمائندے ہی اپنا سرپرست چنتے ہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پچھلے ایکٹ میں بھی چیئرمین وائس چیئرمین، کیا ضلع ناظم کا الیکشن ان ڈائریکٹ ہوتا تھا؟ اس حوالے سے تقابلی رپورٹ پیش کریں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا سندھ میں بلدیاتی انتخابات ڈائریکٹ ہوا تھا ؟ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے روسٹرم پر آ کر کہا سندھ میں بلدیاتی انتخابات ڈائریکٹ ہوا، اگر آپ یونین کونسل سطح پر بھی الیکشن ڈائریکٹ نہیں کراسکتے تو کیسی جمہوریت ہے ؟ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ الیکشن پارٹی بنیاد پر ہوگا، تمام امیدوار پارٹی پرچم تلے اپنی انتخابی مہم چلائیں گے ،امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری ہونگے ، قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے عدلیہ مداخلت نہیں کر سکتی، ہم اس صورت میں مداخلت کر سکتے ہیں اگر کوئی غیر آئینی کام ہوا ہو، نئے بلدیاتی ایکٹ میں بہت سے سوالات کا جواب آنا باقی ہے ، ہم اس کیس میں تمام فریقین کو مکمل موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں ،الیکشن کمیشن پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کیوں نہیں کروا رہا،عدالت کی جانب سے کوئی قدغن نہیں کہ الیکشن نہ کرایا جائے ، الیکشن کمیشن کا اختیار ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں