مذاکراتی عمل پاکستان کی غیرمعمولی سفارتی اہمیت کا باعث
سعودیہ کے بعد قطر میں پرتپاک استقبال،اعلیٰ پروٹوکول بڑھتی اہمیت کا مظہر
(تجزیہ:سلمان غنی)
بیرونی محاذ پر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار نے ملک کو غیر معمولی سفارتی اہمیت دلائی ہے ، اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے بعد قطر پہنچنے پر پرتپاک استقبال اور اعلیٰ سطح کاپروٹوکول اس بڑھتی ہوئی اہمیت کا مظہر ہے ۔قطر میں امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے ساتھ وزیراعظم کی طویل ملاقات کو خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ اسلام آباد ڈائیلاگ کے تناظر میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے ، اس موقع پر قطری قیادت نے نہ صرف پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا بلکہ علاقائی امن و استحکام کیلئے اسے کلیدی قرار دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے قطری قیادت کو امریکا،ایران کشیدگی اور جنگ بندی کے بعد کے مذاکراتی خدوخال سے آگاہ کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ دنوں میں اس حوالے سے پیشرفت ممکن ہے ۔ یوں یہ دورہ محض رسمی سفارتکاری نہیں بلکہ ایک واضح سٹریٹجک تسلسل کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کی ٹائمنگ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے ۔سعودی عرب کے بعد قطر کا دورہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ توازن برقرار رکھتے ہوئے خود کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے ۔ قطر پاکستان کیلئے ایل این جی، توانائی اور سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ ہے اور موجودہ دورے کو معاشی تعاون، گیس معاہدوں میں توسیع اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے امکانات سے بھی جوڑا جا رہا ہے ۔قطر کا عالمی سطح پر ایک مؤثر ثالثی کردار رہا ہے ، خصوصاً مشرق وسطٰی کے تنازعات میں موجودہ حالات میں قطر کے ساتھ قریبی مشاورت پاکستان کی سفارتی مضبوطی کی علامت سمجھی جا رہی ہے ، تاہم ماہرین کے مطابق اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اعلانات کو عملی معاہدوں میں تبدیل کیا جائے کیونکہ ماضی میں کئی معاہدے مؤثر عملدرآمد سے محروم رہے ۔حالیہ پیشرفت کے بعد یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطٰی میں ایک بار پھر مؤثر کردار حاصل کر رہا ہے ۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پاکستان واضح حکمت عملی، پالیسیوں کے تسلسل اور مضبوط فالو اپ کو یقینی بنائے تو قطر کے ساتھ تعلقات گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔قطر میں موجود پاکستانی کاروباری حلقے بھی اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق قطر مواقع فراہم کرنے والا ملک ہے ،تاہم ان مواقع سے فائدہ اٹھانا پاکستان کی اپنی حکمت عملی اور صلاحیت پر منحصر ہے ۔حکومتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور قطر دونوں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت کر رہے ہیں۔ خاص طور پر قطر نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان کی غیر مشروط حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔پاکستان کی جانب سے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے متوازن دورے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام آباد محض روایتی تعلقات نہیں بلکہ ایک نیا علاقائی فریم ورک تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے ۔ حکومت کیلئے یہ دورے داخلی معاشی دباؤ کے تناظر میں بھی اہم ہیں کیونکہ بیرونی محاذ پر کامیابیاں اندرونی استحکام کیلئے سہارا بن سکتی ہیں، تاہم چیلنج بدستور موجود ہے ۔ پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہوں گی اور اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ سفارتی کامیابیاں معاشی فوائد میں ڈھل سکیں۔موجودہ صورتحال میں پاکستان کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کی بجائے بریج سٹیٹ کا کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے جو مختلف طاقتوں کے درمیان پل کا کام کرتا ہے ، یہی توازن مستقبل میں پاکستان کے علاقائی کردار اور عالمی اہمیت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔