پاکستانی سفارتکاری رنگ لانے لگی، آبنائے ہرمز کھل گئی
فریقین میں لچک بڑھنے لگی، مرحلہ وار پیشرفت سے معاملات آگے بڑھیں گے
(تجزیہ:سلمان غنی)
ایران کی جانب سے سیز فائر تک آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق ایران کی یہ لچک اعتماد سازی کے عمل کو تقویت دے گی اور اس سے مذاکراتی ماحول بہتر ہوگا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب اصل پیشرفت اس وقت ممکن ہوگی جب امریکا بھی ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی دکھائے گا۔ اس تناظر میں اسلام آباد میں جاری سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ معاملات بتدریج آگے بڑھیں گے ۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے اس اعلان کی ٹائمنگ کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے ، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت ایران کے دورے پر ہے ۔ اس پیشرفت کو پاکستان کی خاموش مگر مؤثر سفارتکاری کا نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے ۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنا ایک تکنیکی اقدام ہے جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ ایک سٹریٹجک فیصلہ ہوگا۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں غیر جانبدار رہتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کیا ہے اور کشیدگی کے ماحول میں انہیں مذاکرات کی میز تک لانے میں مدد دی۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان کے اس کردار کو سراہا جا رہا ہے اور اسلام آباد میں ممکنہ معاہدے کو خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے ۔آبنائے ہرمز کی اہمیت کے پیش نظر یہ پیشرفت عالمی معیشت کیلئے بھی مثبت اشارہ ہے ، کیونکہ دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے ۔ اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے ۔تاہم صورتحال کا دارومدار اب امریکا کے ردعمل پر ہے ۔ اگر امریکا پابندیوں میں نرمی کرتا ہے تو معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ، بصورت دیگر کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات موجود رہیں گے ، اگرچہ موجودہ حالات میں ان امکانات میں کمی آئی ہے ۔پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں سفارتی محاذ پر متوازن حکمت عملی اپنائی ہے ۔ سفارتی حلقوں کے مطابق فریقین کے درمیان لچک بڑھ رہی ہے اور توقع ہے کہ مرحلہ وار پیشرفت کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھایا جائے گا۔