لاہور ہائیکورٹ کا لڑکیوں کے اغوا بارے آئی جی کی رپورٹ پر عدم اطمینان

لاہور ہائیکورٹ کا لڑکیوں کے اغوا بارے آئی جی کی رپورٹ پر عدم اطمینان

اتنی بڑی تعداد میں بچیاں بازیاب نہیں ہوئیں؟چیف جسٹس، انتظامی ایشوز :آئی جی،حل کرنا آپکی ذمہ داری،چیف جسٹس ناقص کارکردگی والے افسر انویسٹی گیشن میں نہ لگانے کاحکم،مقدس کی بازیابی کی کارروائی رپورٹ یکم جون تک طلب

لاہور(کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے چار سال قبل اغوا ہونے والی مقدس بی بی کی بازیابی کی درخواست پر یکم جون تک تمام کارروائی کی رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے آئندہ سماعت پر بچیوں کے حوالے سے تشکیل دی گئی سپیشل ٹیم سے جواب طلب کرلیا،عدالت نے آئندہ سماعت پر آئی جی پنجاب کو حاضری سے استثنیٰ دے دیا،عدالت نے آئی جی پنجاب کی لڑکیوں کے اغوا اور عدم بازیابی بارے پیش کردہ رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا اور ریمارکس دئیے کہ اغوا ہونے والی لڑکیوں کی بڑی تعداد ابھی تک بازیاب نہیں ہوئی، پولیس کا کام ان مغوی بچیوں کو بازیاب کرنا ہے ،پولیس بچیوں کو بازیاب کرنے میں ناکام رہی ہے ، چیف جسٹس نے حکم دیا کہ تفتیشی افسر وں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ان کی ذمہ داری کا تعین کریں اور ناقص کارکردگی والے افسر وں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ پیش کریں،عدالت نے مزید ہدایت کی کہ ذمہ دار تفتیشی افسروں کو دوبارہ انویسٹی گیشن میں تعینات نہ کیا جائے۔

آئی جی پنجاب نے مو قف اپنایا کہ گزشتہ پانچ سال کا ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے ،ایک ہزار آٹھ سو لاپتہ افراد کا ڈیٹا دستیاب نہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ پرانے کیسز کس کیٹیگری میں ہیں؟کتنے کیسوں میں شہادتیں ریکارڈ ہوئیں ، محکموں کا کام ان لاپتہ کیسز کو ٹریس کرنا ہے ، خصوصاً بچیوں کے کیسز پر توجہ دی جائے ، آئی جی پنجاب نے 2021 سے 25 تک اغوا کے مقدمات اور بازیابی پر عدالت کو آ گاہ کیا، خواتین کے ایک لاکھ 5 ہزار 240 مقدمات درج ہوئے ، پانچ سالوں میں 5 ہزار 571 خواتین اغوا ہوئیں ، مغوی لڑکیوں کی بازیابی کے بعد ان کے بیانات پر 80 ہزار 775 مقدمات خارج کیے گئے جبکہ 20 ہزار 613 کے چالان عدالتوں میں پیش کئے ،612 خواتین بازیاب ہو چکی ہیں، 3258 مسنگ ہیں، آئی جی نے بتایا کہ ایک میکانزم بنایا گیا ہے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں سپیشل ٹیم بنائی گئی ، عدالت نے استفسار کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں بچیاں کیوں بازیاب نہیں ہوئیں؟آئی جی پنجاب نے بتایا کہ انتظامی ایشوز ہیں،مشکلات پیش آتی ہیں، عدالت نے ریمارکس د ئیے کہ ایشوز کو حل کرنا آپ کی ذمہ داری ہے ، آپ انہیں فوراً حل کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں