یکم جولائی سے اراضی لین دین کیلئے گرین سرٹیفکیٹ لازمی
یکم مئی سے ساہیوال، جون سے لودھراں ، حافظ آباد میں روایتی دستاویزات کا خاتمہ سرٹیفکیٹ ملکیت اور قبضہ دونوں کی تصدیق یقینی بناتا :چیئرمین لینڈ ریکارڈ اتھارٹی
لاہور (اپنے سٹی رپورٹر سے )منصوبہ برائے اصلاح نظام اراضی ،پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی ،بورڈ آف ریونیو حکومت پنجاب کی جانب سے صوبہ بھر میں رواں سال یکم جولائی سے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے بغیر اراضی اور غیر منقولہ جائیداد کے ہر قسم کے لین دین پر مکمل پابندی عائد ہوگی، اس فیصلے کے تحت یکم مئی سے ساہیوال، یکم جون سے لودھراں اور حافظ آباد، اسی طرح یکم جولائی سے پنجاب بھر میں فرد برائے بیع اور دیگر تمام روایتی دستاویزات کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے گا ۔واضح رہے کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نفاذ کا بنیادی مقصد عوام کی جائیداد کی ملکیت اور حدود کا تحفظ، نیز خرید و فروخت کے عمل میں ممکنہ فراڈ اور جعلسازی کا خاتمہ ہے ۔چیئرمین پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی طارق سبحانی کا کہنا ہے کہ 486 سالہ اراضی نظام میں پہلی بار تاریخ ساز اقدام کے تحت شفافیت کو فروغ مل رہا ہے ، گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ ملکیت اور قبضہ دونوں کی تصدیق کو یقینی بناتا ہے ، حکومت نے عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے محدود مدت کیلئے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے حصول کی سبسڈی شدہ فیس 900 روپے مقرر کی ہے جبکہ بغیر سبسڈی متوقع فیس سے کئی گنا زیادہ ہو گی ،عوام اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں اور آج ہی گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ بنوا کر اپنی جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کو یقینی بنائیں،سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے شہری اپنے قریبی اراضی ریکارڈ سنٹر سے رجوع کریں جہاں کوائف کی جانچ، سروے اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ (ADLR)کی تصدیق کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے ۔