امریکی وفد کا دورہ پاکستان منسوخ، دوبارہ جنگ نہیں کر رہے : ٹرمپ

امریکی وفد کا دورہ پاکستان منسوخ، دوبارہ جنگ نہیں کر رہے : ٹرمپ

دورہ منسوخ کرنے کے بعد ایران نے اپنی پیشکش بہتر کی، لیکن کافی نہیں، ایرانی جب چاہیں فون کر سکتے ،فیلڈ مارشل ،شہباز شریف بہترین شخصیات ، تنازع حل کرانے کیلئے بہترین کام کیا:امریکی صدر اصولی موقف پیش کردیا اب دیکھنا ہے امریکا سنجیدہ ہے یا نہیں:عراقچی، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھی تو جواب دیا جائیگا:ایرانی فوج،زیادہ سے زیادہ مطالبات قبول نہیں کرینگے :ایرانی سفارتکار

اسلام آباد،تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں کیں اور جنگ خاتمے پر ایرانی موقف پیش کر کے چلے گئے جبکہ شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر 50 منٹ بات چیت ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وفد کا دورہ پاکستان منسوخ کردیا اور کہا دوبارہ جنگ نہیں کررہے ۔ٹرمپ نے کہا امریکی مذاکرات کار سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اب ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے پاکستان نہیں جائیں گے ، انہوں نے کہا تمام پتے ہمارے پاس ہیں، وہ (ایرانی )جب چاہیں ہمیں فون کر سکتے ہیں، لیکن اب ایسا نہیں ہو گا کہ آپ زبانی جمع خرچ کیلئے 18 گھنٹے کی پرواز کریں۔انہوں نے کہا ایرانی قیادت کے اندر زبردست اندرونی اختلاف اور کنفیوژن ہے ، کسی کو نہیں معلوم کہ اصل میں کون ذمہ دار ہے ، خود انہیں بھی نہیں،انھوں نے کہاٹیم نہ بھیجنے کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ دوبارہ شروع کی جائے گی،ہم نے ابھی جنگ دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں سوچا نہیں، جس سے بھی بات کرنی پڑے ، میں کروں گا، لیکن دو دن انتظار کرنے ، لوگوں کو 16 یا 17 گھنٹے کا سفر کروانے کی کوئی ضرورت نہیں، ہم اس طریقے سے کام نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف بہترین شخصیات ہیں، پاکستان نے ایران امریکا تنازع حل کرانے کیلئے بہترین کام کیا،پاکستان کی ثالثی کیلئے مخلصانہ کوششیں جاری ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا یہ بہت سادہ سی بات ہے کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔انہوں نے کہا دورہ منسوخ کرنے کے بعد ایران نے اپنی پیشکش بہتر کی، لیکن کافی نہیں۔ایئر فورس ون کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا انہوں نے ہمیں ایک دستاویز دی جو بہتر ہونی چاہیے تھی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے ہی میں نے دورہ منسوخ کیا، 10 منٹ کے اندر ہمیں ایک نئی دستاویز ملی جو کافی بہتر تھی۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی زیر قیادت ایرانی وفد نے وزیراعظم ہاؤس میں 2 گھنٹے طویل ملاقات کی ، جس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار ،فیلڈ مارشل عاصم منیر ، وزیرداخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے ،ملاقات میں خطے کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔شہباز شریف نے سوشل میڈیا ایکس پر اپنے بیان میں کہا ایرانی وزیرخارجہ سے موجودہ علاقائی صورتحال پر نہایت گرمجوشی سے اور خوشگوار انداز میں تبادلہ خیال ہوا،ہم نے باہمی دلچسپی کے امور پر بھی گفتگو کی، جن میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا بھی شامل تھا۔

دریں اثنا شہبازشریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے پچاس منٹ تک جاری رہنے والی گرمجوش اور دوستانہ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور امن و استحکام کے فروغ کیلئے جاری کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔شہبازشریف نے اپنے ٹویٹ میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ دوست ممالک اور شراکت داروں کے تعاون سے پاکستان ایک ایماندار اور مخلص ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی دیگر آفیشلز کے ہمراہ الگ سے بھی ملاقات ہوئی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور ، خطے کی مجموعی صورتحال ،ایران اور پاکستان کے درمیان علاقائی سکیورٹی اوردوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور قومی سلامتی مشیر جنرل عاصم ملک بھی شریک ہوئے جبکہ ایرانی وفد میں نائب وزیر خارجہ غریب آبادی، سفیر رضا امیری مقدم اور ترجمان وزارت خارجہ بقائی شامل تھے۔

ایران اور پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ پر زور دیا پاک ایران تعلقات اور سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جنگ بندی سے متعلق تازہ ترین پیش رفت اور جنگ کے مکمل خاتمے پر اپنے ملک کا اصولی مؤقف وضاحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے ، تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکا واقعی سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ عباس عراقچی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے ، عراقچی نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔ایرانی وزیرخارجہ نے اپنے دورے کو ‘انتہائی مفید’ قرار دیتے ہوئے مزید لکھا کہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کی برادرانہ کوششوں کو ہم بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان کا اہم سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے مسقط چلے گئے ، ایرانی ترجمان کے مطابق عراقچی عمان کے بعد روس بھی جائیں گے تاکہ جنگ کے خاتمے پر بات ہو سکے۔

رائٹرز کے مطابق جب مذاکرات میں امریکی موقف پر تہران کے تحفظات کے بارے میں پوچھا گیا تو اسلام آباد میں موجود ایک ایرانی سفارتی ذریعے نے بتایاکہ اصولی طور پر ایران زیادہ سے زیادہ مطالبات قبول نہیں کرے گا۔ادھر آبنائے ہرمز پر تعطل کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے ، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے اقدامات کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ایران کی مسلح افواج نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھی تو جواب دیا جائے گا،یہ بیان فوج کے کمانڈ سنٹر کی جانب سے جاری کیا گیا ہے ، بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکی فوج سمندر میں محاصرہ، غنڈہ گردی اور قزاقی جاری رکھتی ہے تو اسے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ادھر امریکی سنٹرل کمانڈ(سینٹکام)نے ایک تصویر جاری کی ہے جس میں یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بس (سی وی این 77)بحری بیڑے کی قیادت میں کیریئر اسٹرائیک گروپ کو بحرِ ہند میں گشت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ نے کہا کہ کئی دہائیوں میں پہلی بار تین طیارہ بردار بحری جہاز بیک وقت مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں۔ان بحری بیڑوں میں یوایس ایس جارج بش ، یوایس ایس ابراہم لنکن،یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈشامل ہیں، سینٹکام کے مطابق یہ تینوں کیریئرز مجموعی طور پر 200 سے زائد طیارے اور تقریباً 15ہزار ملاح اور میرینز پر مشتمل ہیں۔تاہم آبنائے ہرمز ہی واحد نکتہ اختلاف نہیں، ایران کی جوہری صلاحیتوں اور خطے میں پراکسی گروپوں کی حمایت کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران اب بھی آمنے سامنے ہیں۔ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا دورہ پاکستان کے دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاس جوہری مذاکرات کی ذمہ داری نہیں، وزیر خارجہ اسلام آباد صرف دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کیلئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا جوہری سرگرمیوں سے متعلق بات چیت ایران کی ریڈ لائن میں شامل ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں