بلوچستان : 2 تھانوں پر حملے، ایک دہشتگرد ہلاک، 1 اہلکار شہید، 4 زخمی
مسلح افراد نے تھانے کو چاروں اطراف سے گھیر کر راکٹوں اور دستی بموں سے حملہ کیا، بھرپورجوابی کارروائی پر فرار دھماکوں کی آوازیں دور تک سنی گئیں، سرچ آپریشن، مسلح افراد نے چاغی میں تھانہ اور ریسٹ ہاؤس نذرِ آتش کردیا
بولان/ڈھاڈر، چاغی (نامہ نگاران) ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں سٹی پولیس تھانے پر نامعلوم مسلح افراد نے راکٹ لانچرز اور دستی بموں سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں بلوچستان کانسٹیبلری کا ایک جوان شہید جبکہ اے ٹی ایف کے چار اہلکار زخمی ہو گئے ، پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ شب مسلح افراد نے تھانے کو چاروں اطراف سے گھیر کر اچانک حملہ کیا اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس سے زوردار دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں اور علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ حملے کے فوراً بعد پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔فائرنگ کے تبادلے کے دوران بلوچستان کانسٹیبلری کا جوان جامِ شہادت نوش کر گیا جبکہ اے ٹی ایف کے چار اہلکار سجاد، اصغر، رفیق اور گامڑن زخمی ہوئے۔
زخمیوں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈھاڈر منتقل کیا گیا جہاں دو اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ، بعد ازاں انہیں مزید علاج کیلئے سی ایم ایچ سبی منتقل کر دیا گیا۔پولیس کی بھرپور جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا جبکہ دیگر حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا اور داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی۔دوسری جانب ضلع چاغی کے علاقے یک مچ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس تھانے اور ریسٹ ہاؤس کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں ریسٹ ہاؤس کا تمام سامان جل کر خاکستر ہو گیا جبکہ تھانے کو جزوی نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ایس پی چاغی کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر دہشت گردی کا شاخسانہ ہے ، تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔