تیل کی نئی جنگ ، امارات اوپیک سے الگ

تیل کی نئی جنگ ، امارات اوپیک سے الگ

عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ کچھ حد تک کم، فیصلہ ٹرمپ کی کامیابی،صارفین کیلئے بھی مثبت،خلیجی ممالک کے اختلافات نمایاں ایران بحران میں:ٹرمپ، وہاں پٹرول کی قلت ہونیوالی:امریکی وزیر، 2024سے ہی تیار، فکر کی بات نہیں:ایران،سیکرٹری یو این او کا اسحاق ڈار کو فون

دبئی ( نیو ز ایجنسیاں )متحدہ عرب امارات نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدہ ہو رہا ہے ، جو اس گروپ کیلئے بڑا دھچکا ہے جبکہ ایران کی جنگ سے پیدا ہونے والے غیر معمولی توانائی بحران نے خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے ۔متحدہ عرب امارات، جو اس تنظیم کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے ، کے اس فیصلے سے عالمی تیل کی فراہمی پر تنظیم کا کنٹرول کمزور ہو جائے گا اور متحدہ عرب امارات اور اس کے پڑوسی ملک سعودی عرب کے درمیان خلیج مزید گہری ہو جائے گی، جو اس تنظیم کا مؤثر رہنما سمجھا جاتا ہے ۔یہ اقدام متحدہ عرب امارات کو اس بات کی آزادی بھی دے سکتا ہے کہ جب خلیج کے راستے برآمدات دوبارہ شروع ہوں تو وہ اپنی پیداوار میں اضافہ کرے ، کیونکہ اب وہ تنظیم کی مقررہ پیداوار کی حدوں کا پابند نہیں رہے گا۔

اس طرح تیل کی نئی جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے اعلان کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں، متحدہ عرب امارات کے وزیرِ توانائی سہیل المزروعی نے ٹیلیفونک انٹرویو میں رائٹرز کو بتایا کہ یہ فیصلہ ملک کی توانائی حکمتِ عملیوں کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے ۔ متحدہ عرب امارات نے اس معاملے پر کسی دوسرے ملک سے بات نہیں کی۔انہوں نے کہایہ پالیسی فیصلہ ہے ، جو موجودہ اور مستقبل کی پیداوار کی سطح سے متعلق پالیسیوں کا بغور جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے ۔متحدہ عرب امارات یکم مئی کو اس تنظیم سے علیحدہ ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو زیادہ توانائی کی ضرورت ہوگی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اس طلب کو پورا کرنے کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے ۔ عرب امارات کے اس اعلان کے بعد کہ وہ یکم مئی کو تیل پیدا کرنے والے اوپیک اور اس کے اتحادی گروپ اوپیک پلس کو چھوڑ دے گا، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ کچھ حد تک کم ہو گیا۔

امارات کا اوپیک سے علیحدہ ہونا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے کامیابی تصور کیا جا رہا ہے ، جنہوں نے 2018 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اس تنظیم پر الزام لگایا تھا کہ وہ تیل کی قیمتیں بڑھا کر دنیا کے باقی حصے کا استحصال کر رہی ہے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صارفین اور وسیع معیشت کے لیے بھی مثبت ہو سکتا ہے ۔رسٹاد کے تجزیہ کار جورجے لیون نے نشاندہی کی کہ سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات ان چند ممالک میں شامل ہے جنکے پاس اضافی پیداوار کی صلاحیت موجود ہے ، جسکے ذریعے وہ منڈی میں مزید تیل فراہم کر سکتا ہے ۔کبھی مضبوط اتحادی رہنے والے ابوظہبی اور ریاض کے درمیان اب دبی ہوئی رقابت جنم لے چکی ہے ، جو تیل کی پالیسی، علاقائی سیاست، اور غیر ملکی ہنر و سرمایہ حاصل کرنے کی دوڑ جیسے معاملات پر اختلافات کی صورت میں سامنے آ رہی ہے ۔متحدہ عرب امارات خطے کا اہم تجارتی اور مالیاتی مرکز ہے اور امریکا کے قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتا ہے ۔ اس نے فعال خارجہ پالیسی اپنائی ہے اور مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔

خاص طور پر ایران کی جنگ کے دوران حملوں کا سامنا کرنے کے بعد، متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ اس نے 2020 کے ابراہم معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے اور اس تعلق کو خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے اور واشنگٹن تک رسائی کے اہم ذریعے کے طور پر دیکھتا ہے ۔دوسری جانب خلیجی رہنماؤں نے منگل کو سعودی عرب میں اجلاس میں شرکت کی۔ خلیجی عہدیدار کے مطابق اس اجلاس کا مقصد ایران کی جانب سے ہزاروں میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا تھا، جو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے جاری ہیں۔اوپیک کے کوٹوں نے متحدہ عرب امارات کی پیداوار کو روزانہ30سے 35 لاکھ بیرل تک محدود کر رکھا تھاتاہم اس اقدام کی ٹائمنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایران کی جنگ کے اثرات سے جڑا ہوا ہو سکتا ہے۔

خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیا ہے اور اس سے پہلے ہی کشیدہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے ۔جہاں تک اوپیک کا تعلق ہے یہ بڑا دھچکا ہے ایسے وقت میں جب اسکی طویل مدتی یکجہتی اور افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔یہ صرف اتنی بات نہیں کہ متحدہ عرب امارات اپنی تیل کی سپلائی دوبارہ مکمل طور پر عالمی منڈی میں لا کر روزانہ 50 لاکھ بیرل تیل پیدا کرنا چاہتا ہے ۔اگر سعودی عرب اسکے جواب میں تیل کی قیمتیں کم کرنے کی جنگ شروع کرتا ہے تو متحدہ عرب امارات چونکہ تیل کے علاوہ بھی مختلف شعبوں سے کماتا ہے ، اس لیے وہ اس نقصان کو برداشت کر سکتا ہے ۔لیکن اوپیک کے دوسرے غریب ممالک، جو زیادہ تر تیل کی آمدنی پر ہی انحصار کرتے ہیں، کم قیمتوں کی وجہ سے شدید نقصان اٹھا سکتے ہیں۔

آسٹریلیا کی کمپنی ایم ایس ٹی فنانشل میں توانائی کے محقق ساؤل کیوونک کا کہنا ہے کہ یہ اوپیک کے اختتام کی شروعات ہے ۔متحدہ عرب امارات کی علیحدگی سے اوپیک اپنی پیداواری صلاحیت کا تقریباً 15 فیصد حصہ اور اپنے انتہائی قابل انحصار رکن کو کھو دیگی۔اوپیک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات سالانہ 29 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے جبکہ اوپیک کا عملی سربراہ سعودی عرب سالانہ 90 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے ۔ساؤل کیوونک کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے کے بعد سعودی عرب کو اوپیک کے باقی ارکان کو متحد رکھنے میں دشواری پیش آئیگی اور تیل کی مارکیٹ کے انتظام کا زیادہ تر بوجھ عملی طور پر اسے اکیلے ہی اٹھانا پڑے گا۔ ہوسکتا ہے دیگر اوپیک ممالک بھی اسی راستے پر چل پڑیں۔

تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کی کوششیں منگل کو تعطل کا شکار رہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی تازہ پیشکش پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔ انکا کہنا تھا کہ ایران نے امریکا کو بتایا ہے کہ وہ انتہائی بحران  کی حالت میں ہے اور اپنی قیادت کے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ایران کی تجویز کے مطابق اسکے جوہری پروگرام پر بحث کو اُس وقت تک مؤخر کر دیا جائے گا جب تک جنگ، جسے اس ماہ کے اوائل میں اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد عارضی طور پر روک دیا گیا ہے ، مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے اور خلیج سے جہاز رانی سے متعلق تنازعات حل نہ ہو جائیں تاہم ایک امریکی عہدیدار، جسے صدر کے پیر کے روز اپنے مشیروں کے ساتھ اجلاس پر بریف کیا گیا تھا، نے بتایا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ جوہری معاملات کو ابتدا ہی سے زیرِ بحث لایا جائے۔

امریکی میڈیا نے کہا ثالثی کے عمل سے وابستہ حلقوں نے بتایا ہے کہ پاکستان میں ثالثین کو توقع ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کیلئے نظر ثانی شدہ تجویز موصول ہوگی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا:ایران نے ابھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ وہ انتہائی بحران کی حالت میں ہیں،وہ چاہتے ہیں کہ ہم آبنائے ہرمز کو جلد کھولیں، کیونکہ وہ اپنی قیادت کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں (اور میرا خیال ہے کہ وہ یہ کر لیں گے )۔یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران نے یہ پیغام کس طرح پہنچایا اور تہران کی جانب سے فوری طور پر ٹرمپ کے اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران میں پٹرول کی قلت پیدا ہونے والی ہے ۔انہوں نے کہا امریکا کی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی تیل پیدا کرنے کی صنعت بند ہو رہی ہے اور جلد ہی تیل نکالنے کا عمل رک جائے گا، اسکے بعد ایران میں پٹرول کی قلت پیدا ہو جائے گی، پاسداران انقلاب کے جو رہنما بچ گئے ہیں وہ اس وقت پھنس چکے ہیں۔اس سے قبل ایرانی فوج کے ایک ترجمان نے سرکاری میڈیا کو بتایا تھا کہ اسلامی جمہوریہ اس جنگ کو ختم شدہ نہیں سمجھتا۔

جنگ کے آغاز (28 فروری) کے بعد سے ایران نے خلیج سے گزرنے والی زیادہ تر جہاز رانی کو محدود کر رکھا ہے ، سوائے اپنی جہازوں کے ، جبکہ اسی ماہ امریکا نے ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی شروع کر دی۔امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کی کئی اعلیٰ سیاسی اور فوجی شخصیات کی شہادت کے بعد اب ملک میں طاقت کا کوئی غیر متنازعہ مذہبی مرکز باقی نہیں رہا، جس سے تہران کا مؤقف مزید سخت ہو سکتا ہے ۔ایرانی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے پہلے دن آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور انکے زخمی بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب کے سخت گیر کمانڈروں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے ۔ایران کے نائب وزیر دفاع رضا طلائینیک نے منگل کو کہا کہ تہران امریکاکی شکست سے حاصل ہونے والی دفاعی صلاحیتوں اور تجربات کو شنگھائی تعاون تنظیم کے آزادممالک کے ساتھ شیئر کرنے کیلئے تیار ہے ۔ اس بلاک میں ایران، روس، چین، بھارت، پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔انہوں نے کہا امریکا اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے ،انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حقیقت ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ثابت قدمی کے ذریعے دنیا کے سامنے آ چکی ہے ، اب پوری دنیا امریکا اور اسرائیل کو ریاستی دہشت گردی کی علامتیں سمجھتی ہے۔

امریکا بالآخر یہ تسلیم کرے گا کہ اسے اپنے غیر قانونی اور غیر معقول مطالبات ترک کرنا ہوں گے ۔ایران کی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے منگل کو سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ایران نے سمندری ناکہ بندی کے ممکنہ حالات کے لیے 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے وقت ہی تیاری کر لی تھی اور ضروری انتظامات کیے گئے تھے ، اس لیے فکر کی کوئی بات نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تہران شمالی، مشرقی اور مغربی تجارتی راستوں کو استعمال کر رہا ہے جو خلیجی بندرگاہوں پر انحصار نہیں کرتے تاکہ ناکہ بندی کے اثرات کو کم کیا جا سکے ۔ادھر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے منگل کی شام اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ٹیلیفونک رابطہ کیا،دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق یواین سیکرٹری جنرل نے پاکستان کی جاری کوششوں کو سراہتے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کے تعمیری کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی اور اسکی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں