ٹرمپ جوہری پروگرام پرایرانی تجویز سے ناخوش : ایران انتہائی بحران میں ،چاہتا ہے ہم آبنائے ہرمز جلد از جلد کھول دیں : امریکی صدر ، امریکا اپنی پالیسیا مسلط کرنے کے قابل نہیں رہا : ایران
ٹرمپ چاہتے ہیں جوہری معاملات کو ابتدا ہی سے زیر بحث لایا جائے، امریکی عہدیدار، ثالثوں کو ایران کی طرف سے جنگ کے خاتمے کیلئے نظر ثانی شدہ تجویز جلد موصول ہونے کی توقع، امریکی میڈیا ایران میں پٹرول کی قلت پیدا ہونے والی، امریکی وزیر خزانہ، ناکہ بندی کے ممکنہ حالات کیلئے 2024کے امریکی انتخابات کے وقت ہی تیاری کرلی تھی، فکر کی کوئی بات نہیں، ترجمان ایرانی حکومت
تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) ایک امریکی عہدیدار کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے دو ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے پیش کی گئی تازہ تجویز سے ناخوش ہیں، جس کے باعث اس تنازع کے حل کی امیدیں مدھم پڑ گئی ہیں۔ اس جنگ نے توانائی کی فراہمی کو متاثر کیا، مہنگائی کو ہوا دی اور ہزاروں افراد کی جانیں لے لی ہیں۔ایران کی نئی تجویز کے مطابق اس کے جوہری پروگرام پر بحث کو اُس وقت تک مؤخر کر دیا جائے گا جب تک جنگ ، جسے اس ماہ کے اوائل میں اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد عارضی طور پر روک دیا گیا ہے ، مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے اور خلیج سے جہاز رانی سے متعلق تنازعات حل نہ ہو جائیں۔ایک امریکی عہدیدار، جس نے صدر کے پیر کے روز اپنے مشیروں کے ساتھ ہونے والے اجلاس سے متعلق بریفنگ دی اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے کہا کہ ٹرمپ اس تجویز سے اس لیے ناخوش ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ جوہری معاملات کو ابتدا ہی سے زیر بحث لایا جائے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا کہ امریکہ نے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں کیونکہ وہ اس جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا آغاز اس نے فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر کیا تھا۔امریکی میڈیا نے کہا ثالثی کے عمل سے وابستہ حلقوں نے بتایا ہے کہ پاکستان میں ثالثین کو توقع ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کیلئے ایک نظر ثانی شدہ تجویز موصول ہوگی۔2015 میں ایران اور امریکا سمیت کئی دیگر ممالک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو نمایاں طور پر محدود کر دیا گیا تھا، جس کے بارے میں ایران کا مؤقف رہا ہے کہ وہ پُرامن، شہری مقاصد کے لیے ہے ۔ تاہم یہ معاہدہ اس وقت ٹوٹ گیا جب ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں یکطرفہ طور پر اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔امن کی کوششوں کی بحالی کی امیدیں اس وقت مزید کمزور پڑ گئیں جب امریکی صدر نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ثالث پاکستان کے دورے کو منسوخ کر دیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے آخر میں دو مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کیا۔
انہوں نے عمان کا بھی سفر کیا اور پیر کے روز روس گئے جہاں انہوں نے صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کی اور ایک دیرینہ اتحادی کی جانب سے حمایت حاصل کی۔چونکہ فریقین کے درمیان اب بھی نمایاں فاصلے موجود ہیں، اس لیے تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ شروع ہو گیا ہے ۔ منگل کو قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سیشن کے اضافے کا تسلسل ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا ایران نے ابھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ وہ اس وقت ایک انتہائی بحران کی حالت میں ہے ۔وہ چاہتے ہیں کہ ہم آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولیں’ جبکہ وہ اپنی قیادت کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ،جسے میرا خیال ہے کہ وہ سنبھال لیں گے ۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران میں پٹرول کی قلت پیدا ہونے والی ہے ۔انہوں نے کہا امریکا کی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی تیل پیدا کرنے کی صنعت بند ہو رہی ہے اور جلد ہی تیل نکالنے کا عمل رک جائے گا، اس کے بعد ایران میں پٹرول کی قلت پیدا ہو جائے گی، پاسداران انقلاب کے جو رہنما بچ گئے ہیں وہ اس وقت پھنس چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر دفاع رضا طلائینیک نے منگل کو کہا کہ تہران امریکہ کی شکست سے حاصل ہونے والی دفاعی صلاحیتوں اور تجربات کو شنگھائی تعاون تنظیم کے آزادممالک کے ساتھ شیئر کرنے کیلئے تیار ہے ۔ اس بلاک میں ایران، روس، چین، بھارت، پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔انہوں نے کہا امریکا اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے ،انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حقیقت ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ثابت قدمی کے ذریعے دنیا کے سامنے آ چکی ہے ، اب پوری دنیا امریکا اور اسرائیل کو ریاستی دہشت گردی کی علامتیں سمجھتی ہے ۔ امریکا بالآخر یہ تسلیم کرے گا کہ اسے اپنے غیر قانونی اور غیر معقول مطالبات ترک کرنا ہوں گے ۔رضا طلائینیک نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچنے پر (جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے ) بین الاقوامی سطح پر ایران کی مسلح افواج کے اور ایرانی عوام کی مثالی مزاحمت کی اہمیت پر زور دیا۔
انھوں نے کہا بے گناہوں کے قتلِ عام میں ان کے جرائم، خصوصاً میناب سکول کے بچوں اور طلبہ کے قتل، نے ان اقدار کے حوالے سے مغربی دنیا کی ساکھ کو تباہ کر دیا ہے جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کی پاسداری کرتی ہے ۔ایران کی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے منگل کو سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ایران نے سمندری ناکہ بندی کے ممکنہ حالات کے لیے 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے وقت ہی تیاری کر لی تھی اور ضروری انتظامات کیے گئے تھے ، اس لیے فکر کی کوئی بات نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تہران شمالی، مشرقی اور مغربی تجارتی راستوں کو استعمال کر رہا ہے جو خلیجی بندرگاہوں پر انحصار نہیں کرتے ، تاکہ ناکہ بندی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔