آئی ایم ایف قسط آئندہ ماہ مل جائیگی ، پانڈا بانڈ کا اجرا ابھی کرینگے ، وزیر خزانہ
آئندہ دو سے تین سال میں مزید یورو اور سکوک بانڈز جاری کرینگے ، بجٹ مشاور ت کیلئے آئی ایم ایف وفد پاکستان آئیگا پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاتا تو ریلیف کی صورتحال مختلف ہوتی، پاکستان میں 4کروڑ کرپٹو صارفین موجود ہیں شرح نمو 4فیصد، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ایک ارب ڈالر، زرمبادلہ ذخائر 18ارب ڈالر رہنے کا امکان ،فورم سے خطاب
اسلام آباد (مدثر علی رانا)وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی یا قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف جمعہ کو کریں گے ۔ اگلے ماہ آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملنے کی توقع ہے جبکہ مئی میں 250 ملین ڈالر مالیت کا پانڈا بانڈ جاری کیا جائے گا۔ آئندہ دو سے تین برسوں میں مزید یورو اور سکوک بانڈز کے اجرا کی بھی منصوبہ بندی ہے ۔ نئے مالی سال کے بجٹ کے لیے مشاورت جاری ہے ، جبکہ آئی ایم ایف کا وفد مئی کے وسط میں پاکستان آئے گا۔ پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ کرپٹو صارفین موجود ہیں اور اس شعبے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے ، کرپٹو ایکسچینجوں کو لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں اور ٹوکنائزیشن کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے ۔وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کمرشل فنانسنگ کی طرف بڑھ رہا ہے ، جبکہ پانڈا بانڈ کے اجرا کے لیے اے ڈی بی اور ایشیائی انفراسٹرکچر بینک نے گارنٹی دے دی ہے۔
علاقائی کشیدگی کے باوجود ملک میں کھاد اور فوڈ سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاتا تو ریلیف کی صورتحال مختلف ہوتی۔ رواں مالی سال میں معاشی ترقی تقریباً 4 فیصد رہے گی۔کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ایک ارب ڈالر اور زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے ۔ اسلام آباد میں یورپی یونین پاکستان اعلیٰ سطح بزنس فورم سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک معاشی استحکام حاصل کر رہا ہے ۔ مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ایک ارب ڈالر سے زائد رہا، جبکہ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے ۔انہوں نے بتایا کہ حکومت بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں سے فنڈز کے لیے متنوع حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے ۔ 250 ملین ڈالر کے پانڈا بانڈ کا اجرا آخری مراحل میں ہے اور اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو مئی کے وسط تک اسے جاری کر دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کا اعلان کیا ہے اور آئندہ دو سے تین سال میں یورو بانڈز اور سکوک تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔
پہلی بار ڈالر میں طے شدہ روپے کی شرح والے بانڈ کی بھی کوشش کی جا رہی ہے ۔وزیر خزانہ کے مطابق سرمایہ کاروں کے لیے منافع اور ڈیوڈنڈ کی واپسی انتہائی اہم ہے ۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات جاری ہیں اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب بہتر کیا جا رہا ہے ۔ حکومت نے نظام کی خامیوں اور لیکیجز کو دور کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے بھی فائدہ اٹھایا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مارچ میں ترسیلات زر 3.8 ارب ڈالر رہیں، جبکہ معمول کے مطابق 3.2 ارب ڈالر ہوتی ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے مارچ میں 260 ملین ڈالر موصول ہوئے ، جبکہ ماہانہ سرمایہ کاری 180 سے 200 ملین ڈالر کے درمیان ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نجکاری پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے ، پی آئی اے کی کامیاب نجکاری ہو چکی ہے جبکہ لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس کی نجکاری پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کی تنظیم نو اور پنشن اصلاحات بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری کا نیا دور شروع ہو رہا ہے ، پاکستان پر عالمی اعتماد بڑھ رہا ہے ، آج ہم اس اعتماد کو مزید آگے لے جا رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت نے مشکل حالات میں معیشت کو استحکام دیا، یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی بن چکی ہے ۔پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ ای آئی بی کی پاکستان میں واپسی اہم پیشرفت ہے اور آئندہ برسوں میں مزید سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہیں۔ یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان مضبوط معاشی تعلقات قائم ہیں اورانہیں اس بات پر فخر ہے کہ یورپی یونین پاکستان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے۔