وزیراعظم سے یورپی یونین وفدکی ملاقات،تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد (نامہ نگار، دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور پاکستان سے برآمدات کے سب سے زیادہ حجم کی منزل ہے ، حکومت یورپی یونین کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی۔
وزیراعظم نے یورپی یونین کے اعلیٰ حکام اور ممتاز یورپی کمپنیوں کے کاروباری نمائندوں پر مشتمل وفد نے ملاقات کی اور پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔یورپی وفد کی قیادت یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹرنیشنل پارٹنرشپس کے ڈائریکٹر ایشیا پیسفک، پیٹرس اسٹبس کر رہے تھے ، وزیراعظم شہباز شریف نے یورپی یونین کے وفد کا پاکستان میں خیرمقدم کیا اور یورپی یونین پاکستان بزنس فورم میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کے انعقاد کو سراہااور امید ظاہر کی کہ یہ تقریب تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرے گی۔انہوں نے یورپی یونین کے وفد کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سمیت علاقائی چیلنجوں کے باوجود معیشت کے استحکام کیلئے کام جاری رکھنے کیلئے حکومت پاکستان کے پختہ عزم کا یقین دلایا۔
یورپی یونین کے وفد نے خطے میں امن کی کوششوں میں وزیراعظم کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کی میزبانی میں بھرپور تعاون کرنے پر حکومت کی تعریف کی۔ ادھر وزیراعظم شہباز شریف کو نیوزی لینڈ کے ہم منصب کرسٹوفر لیوکسان نے ٹیلیفون کیااور مشرقِ وسطی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ایران امریکا ثالثی کی کوششوں کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ نیوزی لینڈ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کو بھی سراہا گیا جبکہ وزیراعظم نے کرسٹوفر لیوکسان کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔ دوسری طرف ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں اقتصادی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ ایس آئی ایف سی کے قیام سے ملک میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا،برآمدات بڑھانے کیلئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تمام ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ریگولیٹری تعمیل پر عملدرآمد کو مزید آسان اور کم خرچ بنایا جائے ۔ اجلاس کو ملک میں سرمایہ کاری میں اضافے کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال جولائی سے مارچ تک ملکی برآمدات میں خصوصی اقتصادی زونز کا حصہ 3.7 فیصد رہا۔مالی سال 2028 تک ملکی برآمدات میں خصوصی اکنامک زونز کا حصہ 8 فیصد تک لیجانے کا ہدف رکھا گیا ہے ۔دریں اثنا وزیراعظم نے زلزلہ متاثرین کی یاد میں عالمی دن پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان آج اقوام عالم کے ساتھ ہم آواز ہو کر دنیا بھر میں زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتا ہے ۔ یہ دن یاددہانی کراتا ہے کہ قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات سے مقابلہ کرنے کے لئے انفراسٹرکچر کی بہتری، جامع حکمت عملی اور عوامی آگاہی ناگزیر ہے ۔ قدرتی آفات سے بچاؤ کی پیشگی اطلاع کی ٹیکنالوجی اور ڈھانچوں کی مضبوطی میں مربوط باہمی تعاون نہایت ضروری ہے۔