جوہری، میزائل پروگرام کا تحفظ کرینگے، امریکیوں کا ٹھکانہ سمندر کی تہہ : مجتبیٰ خامنہ ای

جوہری، میزائل پروگرام کا تحفظ کرینگے، امریکیوں کا ٹھکانہ سمندر کی تہہ : مجتبیٰ خامنہ ای

دوبارہ حملوں پر طویل اور دردناک جواب دیں گے :ایرانی کمانڈر،پابندیوں کی ہر کوشش ناکام ہوگی:صدر مسعود پزشکیان تیل کی قیمت میں بڑا ضافہ پھر کمی، زیر قبضہ جہاز سے 6ایرانی رہا،جنگ ختم ہوتے ہی قیمتیں تیزی سے نیچے گریں گی:ٹرمپ

تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا جوہری، میزائل پروگرام کا تحفظ کرینگے ، امریکیوں کا ٹھکانہ سمندر کی تہہ ہے ،جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے امریکی اتحاد بنانے کے منصوبے پیچیدہ ہو گئے ۔تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے بعد کمی ہوگئی،گزشتہ روز برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر سات فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ126.41 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو کہ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد کی بلند ترین سطح ہے ۔تاہم بعد ازاں برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1016 جی ایم ٹی تک 2.05 ڈالر یا 1.7 فیصد کمی کے ساتھ 115.98 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کا عزم ظاہرکرتے ہوئے کہا ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھ کر لالچ کی بنیاد پر فساد برپا کرنے والے امریکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانیوں کی تہہ کے سوا کہیں اور نہیں ہے ،تہران نئی انتظامیہ کے تحت اس آبی گزرگاہ میں دشمنوں کی زیادتیوں کا خاتمہ کرے گا۔

خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کیلئے ایک نیا باب تحریر کیا جا رہا ہے ۔ خلیج فارس کا روشن مستقبل امریکا سے پاک ہو گا۔ آبنائے ہرمز کے نئے نظام پر عملدرآمد سے تمام ممالک مستفید ہوں گے ۔خلیج فارس میں عدم تحفظ کی بنیادی وجہ یہاں امریکی موجودگی ہے ۔امریکی اڈے نہ تو خود کی اور نہ ہی خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا اسلامی جمہوریہ اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کا قومی اثاثے کے طور پر تحفظ کرے گی۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکا کی بحری ناکہ بندی خلیج میں بد امنی کو مزید بڑھائے گی اور اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔بحری ناکہ بندی مسلط کرنے یا بین الاقوامی قوانین سے متصادم کوئی بھی پابندیاں عائد کرنے کی ہر کوشش کا مقدر ناکامی ہے ۔ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے ناکہ بندی سے ایران کی تیل کی صنعت سے متعلق امریکی دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے کہا تین دن گزر گئے ہیں اور ابھی تک کوئی بھی کنواں نہیں پھٹا، تیل کی قیمتوں کو 120 ڈالر فی بیرل تک لے گئے ہیں،اگلا پڑاؤ 140ہوگا۔

قالیباف نے مزید کہا اگر آپ دو دیواریں بنائیں، ایک نیویارک سے مغربی ساحل تک اور دوسری لاس اینجلس سے مشرقی ساحل تک، تو ان کی مجموعی لمبائی 7ہزار 755 کلومیٹر ہوگی، جو پھر بھی ایران کی مجموعی سرحدوں سے تقریباً 1ہزار کلومیٹر کم ہے ،ایسے ملک کی ناکہ بندی کرنے کیلئے آپ کو نیک خواہشات،اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے نام طنزیہ نوٹ بھی لکھا:پی ایس: پیٹ ہیگستھ کیلئے ۔۔۔ 1 کلومیٹر = 0.62 میل۔پاسداران انقلاب ایرو سپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید ماجد موسوی نے کہا کہ ایران پر کسی بھی امریکی حملے چاہے وہ محدود ہی کیوں نہ ہوں،اسکا جواب امریکی علاقائی ٹھکانوں پر طویل اور دردناک حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔انہوں نے کہا ہم نے خطے میں آپ کے اڈوں کا انجام دیکھا۔ ہم آپ کے طیارہ بردار جہازوں کی قسمت بھی دیکھیں گے ۔ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ نئے فوجی حملوں کے منصوبوں پر بریفنگ کا اہتمام کیا گیا جن کا مقصد ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنا ہے ۔ ایک اور منصوبے کے تحت امریکی صدر کو یہ تجویز بھی دی جائے گی کہ زمینی افواج کو استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے کچھ حصوں پر قبضہ کر کے اسے تجارتی جہازرانی کے لیے کھولا جائے۔

حکام کے مطابق ٹرمپ ایران پر امریکی ناکہ بندی کو مزید سخت کرنے یا یکطرفہ فتح کا اعلان کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔اس بات کے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ امریکا ایک ایسے منظرنامے پر بھی غور کر رہا ہے جس میں لڑائی ختم ہو جائے ۔ اسی سلسلے میں امریکی محکمہ خارجہ نے اتحادی ممالک کو میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ (ایم ایف سی)نامی ایک نئے اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے تاکہ جہازوں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزارا جا سکے ۔فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک نے اس اتحاد میں شمولیت پر بات چیت کی ہے ، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ صرف جنگ کے خاتمے کے بعد ہی آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد دیں گے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں کسی حد تک زیادہ مؤثر ہے ، وہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کریں گے جب تک ایران جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو دور کرنے والے معاہدے پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔

وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی حقیقی نوعیت سے صرف وہ خود اور چند قریبی افراد واقف ہیں، ایران بڑی شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے ،مسئلہ یہ ہے کہ کسی کو یقین سے معلوم نہیں کہ اصل رہنما کون ہیں، یہ واقعی ایک پیچیدگی ہے ۔جنگ بندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ امکان بھی کھلا رکھا کہ ایران پر دوبارہ بمباری کی جا سکتی ہے ، تاہم حتمی مؤقف واضح نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا:مجھے نہیں معلوم کہ ہمیں اس کی ضرورت ہوگی یا نہیں، شاید ہوگی بھی اور شاید نہیں بھی۔ٹرمپ نے کہا جیسے ہی ایران کی جنگ ختم ہوگی، پٹرول کی قیمتیں تیزی کے ساتھ نیچے گر جائیں گی۔ایران کی فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کے سوال پر انہوں نے کہا اگر فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو ایسا کہتے ہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔انہوں نے کہا اگر وہ جیت گئے تو ہمیں اس کے بارے میں سوچنا پڑے گا… مجھے اس پر غور کرنا ہوگا۔ٹرمپ نے کہا پاک بھارت جنگ میں 11 طیارے مار گرائے گئے ،وزیراعظم شہباز شریف نے مجھ سے کہا کہ آپ نے 3 سے 5 کروڑ جانیں بچائیں، انہوں نے کہا ایران نے میرے کہنے پر 8 خوبصورت خواتین کو پھانسی نہیں دی، اس سے قبل وہ 42 ہزار مظاہرین کی جان لے چکا تھا۔

دریں اثنا امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے تقریباً 50کروڑ ڈالرز مالیت کے کرپٹو کرنسی اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔امریکی افواج کی طرف سے قبضے میں لئے گئے ایرانی پرچم بردار بحری جہاز تسکا کے عملے کے 6 ایرانی ارکان کو چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ دیگر 22 ارکان کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں۔امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق یو ایس ایس نیو اورلینز پر سوار امریکی میرینز بحیرۂ عرب میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی کارروائیوں کے دوران پہرہ دے رہے ہیں، آج تک 44 تجارتی جہازوں کو واپس مڑنے یا بندرگاہ لوٹنے کی ہدایت دی جا چکی ہے ۔ڈیجیٹل خبروں کے معروف پلیٹ فارم واحد آن لائن نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں،یہ آوازیں دارالحکومت کے مشرقی حصے میں تہران، پارس اور حکیمیہ کے اضلاع میں سنی گئیں، بعض افراد نے ان آوازوں کو طیارہ شکن سرگرمی قرار دیا۔تاہم اس کی تصدیق یا تردید نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب پاکستان جو کہ ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے ، کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ دونوں فریق ممکنہ معاہدے کے حوالے سے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔پاکستانی ذریعے کے مطابق امریکانے ایرانی تجویز پر اپنے مشاہدات پیش کر دئیے ہیں اور اب ایران کے جواب کا انتظار ہے ۔ذرائع کے مطابق ایرانیوں نے ہفتے کے اختتام تک مہلت مانگی ہے ۔جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ تہران کو وقت حاصل کرنے کی کوشش بند کرنی چاہیے ، جبکہ جاپان کی وزیر اعظم سنے تاکائیچی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات کر کے آبنائے ہرمز سے جاپانی جہازوں سمیت تمام جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔پزشکیان نے کہا کہ اگر واشنگٹن اپنا رویہ تبدیل کرے تو تہران دوبارہ سفارتی راستہ اختیار کرے گا۔رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماہرین کے مطابق اگرچہ کئی ہفتوں کی لڑائی نے ایرانی معیشت کو دباؤ میں ڈال دیا ہے ، لیکن ملک کی مذہبی قیادت اور پاسدارانِ انقلاب اپنے مضبوط کنٹرول کے باعث طویل عرصے تک مزاحمت جاری رکھ سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں