سپر ٹیکس کا نفاذ آئینی، پارلیمنٹ کو عائد کرنے کا مکمل اختیار ہے : وفاقی آئینی عدالت
2022 سے اطلاق،سرمائے میں اضافے پرسپر ٹیکس لا گو، وراثت اورزرعی زمین کی فروخت پرسپر ٹیکس نہیں ہو گا ،تفصیلی فیصلہ یہ تاثر درست نہیں کہ 60 سیکنڈ میں فیصلہ سنا دیاگیا،جسٹس حسن اظہر رضوی، کراچی سوسائٹی کے الیکشن کیخلاف درخواست خارج
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر )وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس کا 293 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، جس میں چیف جسٹس امین الدین خان نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4C کے تحت سپر ٹیکس کے نفاذ کو آئینی قرار دے دیا ہے ۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ سپر ٹیکس کو عام انکم ٹیکس سے الگ اور ایک خودمختار ٹیکس کے طور پر تصور کیا جائے گا اور یہ اس کا متبادل نہیں۔عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سیکشن 4C کے خلاف فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے ،تفصیلی فیصلے کے مطابق سیکشن 4C کے تحت سپر ٹیکس کا اطلاق ٹیکس سال 2022 اور اس کے بعد کے سالوں پر ہوگا، جبکہ اس کا دائرہ کار ان تمام آمدنیوں تک پھیلے گا جو علیحدہ ٹیکس رجیم کے تحت آتی ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ سرمائے میں اضافے پر بھی سپر ٹیکس لاگو ہو گا تاہم جن آمدنیوں پر بنیادی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، ان پر سپر ٹیکس بھی عائد نہیں کیا جا سکتا ۔ پٹرولیم اور ایکسپلوریشن کمپنیوں پر سپر ٹیکس کا اطلاق متعلقہ قانونی حدود اور معاہدوں کے مطابق ہو گا جبکہ فلاحی اداروں اور پنشن فنڈز کو استثنیٰ کے لئے متعلقہ سرٹیفکیٹس کی تصدیق کرانا ہو گی ۔فیصلے میں کہا گیا کہ ٹیکس سے مستثنٰی آمدن سپر ٹیکس سے بھی مستثنیٰ ہوگی اور جائیداد یا شیئرز کی فروخت پر اگر ٹیکس چھوٹ حاصل ہو تو سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ اسی طرح وراثت یا مخصوص مدت کے بعد حاصل ہونے والی آمدن اور زرعی زمین کی فروخت یا اس سے حاصل آمدن پر بھی سپر ٹیکس عائد نہیں ہو گا ۔
وفاقی آئینی عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون سازی کے ذریعے ماضی سے ٹیکس کا نفاذ آئینی طور پر جائز ہے جبکہ مخصوص شعبوں پر زیادہ شرح سے سپر ٹیکس عائد کرنا امتیازی سلوک نہیں بلکہ قانون سازوں کا اختیار ہے ۔ مزید برآں عدالت نے قرار دیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو سرکلر جاری کرنے کی ہدایت دینا اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے کاغان ویلی کراچی سوسائٹی کے انتخابات کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ آیا ملیر کراچی میں قائم اس سوسائٹی نے واقعی کاغان ویلی کا نام استعمال کر کے اسے بدنام نہیں کیا اور کہا یہ معاملہ بنیادی طور پر ایک فیکچوئل تنازعہ ہے جو آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ۔ انہوں نے میڈیا رپورٹس پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دینا درست نہیں کہ عدالت نے 60 سیکنڈ میں فیصلہ سنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ججز ہر کیس کی فائل کو تفصیل سے پڑھتے ہیں اور گھنٹوں مطالعہ کرنے کے بعد سماعت کرتے ہیں، اس لیے ایسے مقدمات کا فیصلہ سرسری انداز میں نہیں کیا جاتا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔