جمعیت علماء اسلام کی کال پر بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال
کوئٹہ(سٹاف رپورٹر)جمعیت علماء اسلام کی کال پر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ ،کچھی ،ڈھاڈر ، تربت سمیت بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔۔۔
کوئٹہ میں تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز مارکیٹیں پلازے اور د کانیں بند رہیں زبردستی دکانیں بند کرانے پر پولیس کی جانب سے جماعت کے عہدیداروں ضلع کوئٹہ کے نائب امیر مولانا عبدالاحد سمیت متعدد کو گرفتار کر لیا اور بعد میں رہا کر دیا گیا انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کسی بھی نا خوش گوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے بھاری نفری تعینات کی گئی اور شہر سمیت ملحقہ علاقوں میں گشت کر تی رہی ۔کوئٹہ میں جناح روڈ ،قندہاری بازار، لیاقت بازار ، عبدالستار، سرکی روڈ، میکانگی روڈ، کاسی روڈ، ڈبل روڈ ، مسجد روڈ، فاطمہ جنا ح روڈ، سورج گنج بازار،مشن روڈ، شہباز ٹاؤن، علمدار روڈ، طوغی روڈ، کواری روڈ، پٹیل روڈ، گوردت سنگھ روڈ، موتی رام روڈ، آرٹ سکول روڈ، طولہ رام روڈ، سمیت دیگر علاقوں میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہا تاہم ٹریفک معمول سے کم رہی ۔
جمعیت علماء اسلام کی جانب سے صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے آڑ میں انکو سیل کرنے اور منتظمین کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کیا گیا تھا جس کے تحت بدھ کو کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی تھی ۔بلوچستان کے مختلف علاقوں زیارت،خضدار، مستونگ، نوشکی،پشین ،چمن ، قلعہ عبداللہ،چاغی ، واشک ، خاران ،دالبندین ، دکی ،ہرنائی ،سنجاوی ،لورالائی ،خانوزئی ،کان مہترزئی، قلات، سوراب سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی اور ریلیاں نکالی گئیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔علاوہ ازیں صوبے بھر کی طرح ضلع کچھی ڈھاڈر میں بھی جمعیت علمائے اسلام کے زیرِ اہتمام حکومت بلوچستان کی جانب سے مدارس کی بلا جواز بندش و تالا بندی اور رجسٹریشن کے نام پر دینی تعلیم پر پابندیوں کے خلاف پْرامن احتجاجی ریلی برف کار خانہ سے نکالی گئی جوکہ مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی ڈھاڈر پریس کلب کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔ احتجاجی ریلی میں ضلع بھر سے علمائے کرام اور دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر مدارس کی بندش نامنظور کے نعرے درج تھے ۔احتجاجی مظاہرین سے جمعیت علمائے اسلام ضلع کچھی کے امیر مولانا ارشد شاہ مفتی کفایت اللہ و دیگر نے خطاب کیا۔