سینیٹ کمیٹی :کابینہ میں خواتین نمائندگی 10فیصد تک بڑھانے کی تجویز
ایمل ولی کا افغان باشندوں کو شہریت دینے اور خواتین کے ویزا مسائل حل کرنے پر زور کمیٹی کا جنسی جرائم کیسزمیں تاخیر اور ڈیجیٹل شواہد کے حصول میں مشکلات پر اظہار تشویش
اسلام آباد (سید قیصر شاہ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں وفاقی کابینہ میں خواتین کی نمائندگی کم از کم 10فیصد تک بڑھانے اور افغان باشندوں کو شہریت دینے کی تجویز دی گئی ۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت ہوا جس میں احمد جاوید کے ٹارگٹ کلنگ کیس، خیبر پختونخوا میں افغان خواتین کے ویزا مسائل، جینڈر بیسڈ وائلنس (GBV) کیسز میں سزا کی شرح اور قرارداد نمبر 584 پر غور کیا گیا۔ وزارت انسانی حقوق نے بریفنگ میں بتایا کہ 2020 سے قبل جی بی وی کیسز میں سزا کی شرح تقریباً 4 فیصد تھی جبکہ خصوصی عدالتوں، اینٹی ریپ کرائسز سیلز اور قانونی اصلاحات کے بعد کچھ بہتری آئی ہے تاہم 2025 میں مختلف صوبوں میں سزا کی شرح اب بھی کم رہی۔کمیٹی نے جنسی جرائم کے مقدمات میں تاخیر، ٹائم لائنز کی کمی اور ڈیجیٹل شواہد کے حصول میں مشکلات پر تشویش ظاہر کی۔ چیئرپرسن نے فرانزک صلاحیتوں میں اضافے اور ایف آئی آر سے ٹرائل تک نظام انصاف کو مؤثر بنانے پر زور دیا۔احمد جاوید قتل کیس میں ایف آئی آر میں تضادات اور انسداد دہشتگردی دفعات کے اخراج پر کمیٹی نے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ وزارت نے وفاقی کابینہ میں خواتین کی نمائندگی کم از کم 10 فیصد تک بڑھانے کی تجویز دی۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے افغان باشندوں کو شہریت دینے اور افغان خواتین کے ویزا مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی نے تمام معاملات پر آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹس طلب کر لیں۔