جیکب آباد:پسند کی شادی پرجلائے گئے گھروں کاسروے مکمل

جیکب آباد:پسند کی شادی پرجلائے گئے گھروں کاسروے مکمل

واقعے میں 121 گھر متاثر ہوئے ، ڈپٹی کمشنر، 15 روز بعد متاثرہ علاقے کا دورہ متاثرین کو ضروری سامان فراہم، مکمل بحالی تک راشن دیتے رہیں گے ، شہزاد احمد

جیکب آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نمائندہ دنیا)پسند کی شادی کے بعد جلائے گئے گھروں کے متاثرین کے پاس 15 روز بعد ڈپٹی کمشنر جیکب آباد پہنچ گئے ، اور متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیکب آباد میں پسند کی شادی کے تنازع پر جلائے گئے گھروں کا سروے مکمل کرلیا گیا۔ آگ لگانے کے واقعے میں 121 گھر متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ گھرانوں کو ٹینٹ، مچھر دانی، چارپائیاں اور ضروری سامان فراہم کیا جا رہا ہے ، فیملیز کو بحالی تک راشن فراہم کرتے رہیں گے ۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ متاثرین کے معاوضے کے لیے سندھ حکومت کو سفارش کریں گے۔

ڈپٹی کمشنر نے متاثرین سے ملاقات کرکے نقصان کی تفصیلات حاصل کیں، اس موقع پر ملہار برڑو نے کہا کہ بیٹے کی غلطی پر پورے گاؤں کے گھر کیوں جلائے گئے ؟ کسی ایک فرد کی سزا پورے علاقے کو دینا کہاں کا انصاف ہے ۔ ملہار برڑو نے الزام عائد کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے صرف 10 سے 12 ترپال اور مچھر دانیاں دی گئی ہیں جبکہ 15 روز گزرنے کے باوجود متاثرین کو راشن فراہم نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان شدید پریشانی اور کسمپرسی کی حالت میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں