کیپٹو پلانٹس کی بندش،بجلی فروخت 10فیصد سے زائد بڑھ گئی
انڈسٹری قومی گرڈ پر منتقلی سے طلب بڑھی،صارفین کیلئے اربوں کا ریلیف متوقع پہلی سہ ماہی میں 22 ارب یونٹس فروخت، 63ارب ریلیف کی درخواست زیرغور
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)ملک میں تقریباً 19 ہزار میگاواٹ سے زائد سولر تنصیب کے باوجود رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں بجلی کی فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نیپرا دستاویزات کے مطابق جنوری، فروری اور مارچ کے لیے لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں بجلی کی فروخت میں 10.92 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔وجوہات جاننے کے لیے روزنامہ دنیا نے ایک اعلیٰ عہدیدار سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس اضافے کی بڑی وجہ کیپٹو پاور پلانٹس کی بندش ہے ۔ حکومت کی جانب سے کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی بند کیے جانے کے بعد ان کا انحصار نیشنل گرڈ پر بڑھ گیا ہے ۔ یہ وہ بجلی گھر ہیں جو صنعتی یونٹس میں نصب ہوتے ہیں اور سستی گیس سے بجلی پیدا کرکے فیکٹریوں کو فراہم کرتے تھے ۔گیس کی فراہمی بند ہونے کے بعد یہ صنعتی یونٹس اب بجلی قومی گرڈ سے خریدنے پر مجبور ہیں۔
کیپٹو پاور پلانٹس کو 120 ایم ایم سی ایف ڈی گیس 3500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے فراہم کی جاتی تھی۔ اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں کمی کے اقدامات بھی طلب میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔دستاویزات کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 20 ارب 11 کروڑ یونٹس کے تخمینے کے مقابلے میں 22 ارب 31 کروڑ یونٹس سے زائد بجلی فروخت ہوئی۔ اس اضافے کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین کو ریلیف ملنے کا امکان ہے ، جبکہ مجموعی طور پر 63 ارب روپے سے زائد ریلیف کی درخواست نیپرا میں زیر غور ہے۔