تجارتی پابندیوں پر مداخلت نہیں کرسکتے :آئینی عدالت

 تجارتی پابندیوں پر مداخلت نہیں کرسکتے :آئینی عدالت

بھارت اور اسرائیل سے درآمد ہونے والی اشیا کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا تھا ہائیکورٹس آرٹیکل 199کے تحت ازخود اختیارات استعمال نہیں کر سکتیں:تفصیلی فیصلہ

اسلام آباد (اے پی پی)وفاقی آ ئینی عدالت نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ درآمدی پالیسی، تجارتی پابندیاں، خارجہ تعلقات اور معاشی حکمت عملی جیسے معاملات وفاقی حکومت کے خصوصی دائرہ اختیار میں آتے ہیں جن میں عدالتی مداخلت نہیں کی  جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ہائیکورٹس کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ازخود نوٹس (سو موٹو) اختیار حاصل نہیں۔تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ جس میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس روزی خان بڑیچ شامل تھے ، نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔

مقدمہ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس آر او 927(I/2019)سے متعلق تھا جس کے تحت بھارت اور اسرائیل سے درآمد ہونے والی اشیا کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ پابندیاں امپورٹ پالیسی آرڈر 2020 کا حصہ بھی بنائی گئیں۔عدالت نے قرار دیا کہ درآمدات، تجارتی پالیسی اور خارجہ امور سے متعلق فیصلے آئینی طور پر وفاقی حکومت کے اختیار میں آتے ہیں اور ان میں ہائیکورٹس کی جانب سے مداخلت آئین میں طے شدہ اختیارات کی تقسیم کے منافی ہے ۔عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے 26 جنوری 2024 کے فیصلے کے متعلقہ پیراگراف کالعدم قرار دیتے ہوئے بھارت اور اسرائیل سے متعلق درآمدی پابندیوں کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں