امریکا ایران جنگ ختم ہونے پر بھی مہنگائی رہیگی:خاقان نجیب

امریکا ایران جنگ ختم ہونے پر بھی مہنگائی رہیگی:خاقان نجیب

مہنگائی کا انڈیکس 15فیصد پر چلاگیا ،کم انکم والے لوگ زیادہ متاثر ہورہے ہمیں آئی ایم ایف سے بات کرنا ہوگا: ’’دنیا مہر بخاری کے ساتھ‘‘میں گفتگو

لاہور (دنیا نیوز ) دنیا نیوز کے پروگرام’’دنیا مہر بخاری کے ساتھ ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر معاشی امور ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ امریکا ایران جنگ کے نتیجہ میں ملک میں مہنگائی کے اثرات واضح دکھائی دے رہے ہیں ، اس وقت مہنگائی کا انڈیکس 15 فیصد تک چلا گیا ہے ، پٹرول 64 فیصد ،ڈیزل 61 فیصد ،بجلی چارجز 52 فیصد ،ایل پی جی 48 فیصد تک مہنگی ہو چکی ہے ۔ توانائی پر مہنگائی کے اثرات تو واضح دکھائی دے رہے ہیں ، فوڈ سپلا ئی کی جانب دیکھیں تو ٹماٹر ، سبزی ، پھل و دیگر فوڈ آئٹمز مثلاً مٹن 15 فیصد تک مہنگے ہو چکے ہیں ، ان کی واضح وجوہات ٹرانسپورٹ کی قیمتیں بڑھ جانا ہے ۔ پاکستان اس وقت ہارویسٹنگ سیزن میں ہے ، اس میں ڈیزل سب سے  اہم عنصر ہے جو درکار ہے ، مارچ اور اپریل میں امپورٹ کو دیکھیں تو اس میں کل ملا کر ایک ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل ہے جو 65 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرر ہا تھا ، یہ واضح دکھائی دینے والے عناصر ہیں جس کا ہمیں سامنا ہے۔ مہنگائی جس طرح پچھلے مہینوں میں اوپر گئی، اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو یہ ساری چیزیں یک دم واپس نہیں آئیں گی۔ پاکستان میں مہنگائی بڑھنے سے سب سے زیادہ کم انکم والے لوگ متاثر ہوتے ہیں ، ہمارے زیادہ تر لوگ پٹرول موٹر سائیکل میں استعمال کرتے ہیں ، جس پر لیوی 107 روپے ،24 روپے امپورٹ ڈیوٹی ، اور ڈھائی روپے کاربن کی مد میں فی لٹر لئے جا رہے ہیں ، ہمیں آئی ایم ایف سے بات کرنی چاہیے ، اس معاملے میں تھوڑا سا روم ضرور لینا چاہیے ، ایف بی آر کا شارٹ فال سب کو متاثر کررہاہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں