دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپسی کے خطرے سے دوچار : چین، روس کا مشترکہ اعلامیہ
عالمی نظام پر امریکی بالادستی کی کوشش ناکام ہو چکی ،’’گولڈن ڈوم‘‘میزائل دفاعی نظام کا منصوبہ عالمی سٹراٹیجک استحکام کیلئے خطرہ قرار،امریکی جوہری پالیسی کی مذمت بیجنگ میں دونوں ممالک نے تجارت، میڈیا اور توانائی کے متعدد معاہدوں پر دستخط کر دئیے ،پیو ٹن اور شی جن پنگ کا سٹراٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
بیجنگ ( نیوز ایجنسیاں )چین اور روس نے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ دنیا اس وقت جنگل کے قانون کی طرف واپسی کے خطرے سے دوچار ہے۔ کچھ ممالک کی جانب سے عالمی امور پر غلبہ قائم کرنے کی کوششیں، جو نوآبادیاتی دور کے انداز میں کی جا رہی ہیں، ناکام ہو چکی ہیں۔ بیجنگ میں شی جن پنگ اور پیو ٹن کی سربراہی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ۔چین اور روس دونوں ماضی میں اس بات پر تنقید کرتے رہے ہیں کہ عالمی نظام پر امریکی قیادت میں ایک بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک نے امریکی صدر ٹرمپ کے گولڈن ڈوم میزائل دفاعی نظام کے منصوبے اور واشنگٹن کی غیر ذمہ درانہ جوہری پالیسی کی مذمت کردی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کا زمین اور خلا پر مبنی میزائل روکنے والے نظام کا منصوبہ عالمی سٹراٹیجک استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ دونوں ممالک نے جامع سٹراٹیجک تعاون کو مضبوط بنانے سے متعلق ایک مشترکہ بیان اور عالمی نظام میں کثیر قطبی نظام (ملٹی پولیریٹی) کی حمایت میں ایک اعلامیہ بھی دستخط کیے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا امن اور ترقی کا عالمی ایجنڈا نئے خطرات اور چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ، جبکہ بین الاقوامی برادری کے ٹکڑوں میں بٹنے اور دوبارہ 'جنگل کے قانون' کی طرف واپسی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ شی جن پنگ اورپیو ٹن 40 سے زائد مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں، دونوں نے روس اور چین کے قریبی تعلقات پر زور دیا۔
ان تعلقات کو 2022 میں ایک سٹراٹیجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کے ذریعے مضبوط بنایا گیا تھا، جو ماسکو کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے سے تین ہفتے سے بھی کم وقت پہلے طے پایا تھا۔ شی جن پنگ کے لیے یہ ایک غیر معمولی سفارتی ہفتہ تھا، جس میں انہوں نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ چین ایک ایسے عالمی نظام میں استحکام کا ستون ہے جو ایران اور یوکرین میں تجارتی جنگوں اور فوجی تنازعات سے متاثر ہے۔ ٹرمپ کے گزشتہ ہفتے کے دورے کے برعکس، جس میں فوری اور ٹھوس اعلانات بہت کم سامنے آئے ، پیو ٹن اور شی جن پنگ نے بدھ کو تجارت، میڈیا اور توانائی کے شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کیے۔