ذیابیطس، پاکستان میں 3 کروڑ 45 لاکھ افراد شکار، پنجاب کی صورتحال سنگین

ذیابیطس، پاکستان میں 3 کروڑ 45 لاکھ افراد شکار، پنجاب کی صورتحال سنگین

ہر 3میں سے 1بالغ فرد کوشوگر ،ہزاروں میں بروقت تشخیص نہ ہوسکی ، 27فیصد لاعلمی میں بیماری کیساتھ زندگی گزار رہے پنجاب میں کیسز مسلسل بڑھنے لگے ،ہسپتالوں میں رش ،لوگ متوازن غذا ،باقاعدہ ورزش اور طبی معائنہ یقینی بنائیں :ماہرین

لاہور(بلال چودھری)پاکستان میں 3کروڑ45 لاکھ افرادذیابیطس (شوگر)کا شکا ر ہوئے جبکہ پنجاب میں صورتحال سب سے زیادہ سنگین ہے اور شوگر کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیاگیاہے ۔ماہرین کے مطابق پنجاب میں شوگر اب خاموش وبا کی شکل اختیار کر چکی ہے ، جس سے لاکھوں شہری متاثر ہو رہے ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں3کروڑ 45لاکھ افراد ذیابیطس میں مبتلا ہیں جبکہ ایک کروڑ سے زائد افراد اس بیماری کے خطرے کی زد میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر تین میں سے ایک بالغ فرد کسی نہ کسی حد تک شوگر سے متاثر ہے، پنجاب میں صورتحال مزید سنگین ہے جہاں ہر گھر اس بیماری کے اثرات سے متاثر نظر آتا ہے۔

لاہور سمیت بڑے شہروں میں نئے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہزاروں مریض ایسے ہیں جن کی بروقت تشخیص نہیں ہو سکی، جس کے باعث تقریباً 27 فیصد افراد لاعلمی میں بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دیر سے تشخیص کے باعث مریضوں میں گردوں، دل اور بینائی کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اس کے نتیجے میں لاہور سمیت بڑے ہسپتالوں پر ذیابیطس کے مریضوں کا دباؤ بھی بڑھ گیا ہے ۔سابق نگران وزیرصحت پروفیسر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ پنجاب میں ماہر شوگر ڈاکٹروں اور خصوصی علاج گاہوں کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے ۔

چھوٹے شہروں میں مریضوں کو بروقت علاج نہیں مل رہا جبکہ غیر صحت مند خوراک اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی اس بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب نوجوانوں میں بھی شوگر کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں،انہوں نے بھی شوگر کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کیلئے فوری اقدامات پر زور دیا ہے ۔ ماہرین نے صوبے بھر میں فوری سکریننگ مہم شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم اور ورچوئل کنسلٹیشنز وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں تاکہ دور دراز علاقوں کے مریض بھی بروقت علاج اور مشورہ حاصل کر سکیں۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور طبی معائنے کو معمول بنا کر اس بیماری سے بچاؤ یقینی بنائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں