ایران اورامریکا کے درمیان پیغامات کیلئے پاکستان پھر متحرک
عراقچی کافیلڈ مارشل سے رابطہ ،اسحاق ڈار کی ایرانی اور مصری وزرا خارجہ سے گفتگو پاکستان کشیدگی میں کمی، معاہدہ کیلئے کوششیں جاری رکھے :ایرانی وزیرخارجہ مفاہمتوں کو رکاوٹ ،تعطل سے بچانے کیلئے جنگ بندی برقراررکھی جائے :ڈار
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)ایران امریکا مذاکرات اور دونوں ممالک ڈیل کے قریب ہونے کی خبروں کے درمیان اچانک خبر آئی کہ ایران نے امریکا کے ساتھ بالواسطہ پیغام کے تبادلے کو معطل کر دیا۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ پیغام رسانی کو معطل کیا گیا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری حملوں کی وجہ سے ایرانی مذاکراتی ٹیم نے ثالثوں کے ذریعے جاری مذاکرات اور پیغامات کو معطل کر دیا ہے ۔ اس خبر کے بعد پاکستان ایک مرتبہ پھر متحرک نظر آیا اور اس نے بطور ثالث دوبارہ رابطے تیز کیے ۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مصر ی وزیر خارجہ سے رابطے ہوئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی الگ رابطہ کیا ہے جس میں بھی خطے کی صورتحال پر گفتگو ہوئی اور جنگ بندی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفترِ خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار اور ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور بیروت کے بعض علاقوں پر ممکنہ حملوں سے متعلق اسرائیلی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ۔ عباس عراقچی نے علاقائی سفارت کاری میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور پاکستان سے درخواست کی کہ وہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے اور جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوششوں کی حمایت کرے ۔ اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس امر کی اہمیت پر زور دیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے تاکہ موجودہ مفاہمتوں اور سمجھوتوں میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تعطل پیدا نہ ہو۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔