افغانستان سے دہشتگردی کیخلاف پاکستان کو دفاع کا حق حاصل : اعلیٰ نمائندہ یورپی یونین
مذاکرات مسائل کا مو ثر حل ، یورپی یونین پاکستان کی بڑی برآمدی منڈی ، پاکستانی ثالثی کو یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا کایا کالاس کو سندھ طاس معاہدے ،مسئلہ کشمیر سے آگاہ کیا،اسحاق ڈار، سٹراٹیجک ڈائیلاگ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد (وقائع نگار، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی کایا کالاس نے اسلام آباد میں پاکستان۔یورپی یونین سٹراٹیجک ڈائیلاگ کے آٹھویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، سکیورٹی تعاون، موسمیاتی تبدیلی، ہجرت، انسانی حقوق اور علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کایا کالاس نے کہا کہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات کے مقابلے میں پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے ، تاہم علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات ہی بہترین راستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے ہمیشہ تحمل اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے کیونکہ فضائی حملوں کے بجائے سفارت کاری اور بات چیت ہی پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے ۔کایا کالاس نے کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس سہولت سے مستفید ہونے والے اہم ممالک میں شامل ہے جبکہ پاکستانی طلبہ کے لیے یورپی یونین کے تعلیمی وظائف بھی جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جو چین اور امریکا کی مشترکہ منڈی سے بھی بڑی ہے ۔ تاہم ترجیحی تجارتی رسائی کا تسلسل انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، اچھی حکمرانی اور ماحولیاتی معیارات سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد سے مشروط ہے ۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے ساتھ موسمیاتی استحکام، صاف توانائی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ہجرت اور عوامی روابط کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانا چاہتی ہے ۔ کایا کالاس نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ کے خطرات ٹالنے میں پاکستان کے کردار کو پورے یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ ان کے بقول پاکستان کی کاوشوں سے جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے سفارتی مواقع پیدا ہوئے ہیں۔اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ کایا کالاس کا دورہ پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 2019 کے سٹراٹیجک انگیجمنٹ پلان کے تحت تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق، ہجرت اور انسداد دہشتگردی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے یورپی یونین کی قیادت کو بھارت کی جانب سے جارحانہ اقدامات، مسئلہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مو قف سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے نے رتلے اور کشن گنگا پن بجلی منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی توثیق کی ہے اور واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مغربی دریاؤں پر بھارت کے اختیارات کے لیے واضح حدود متعین کرتا ہے ۔اسحاق ڈار نے امریکا ۔ایران کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی کی حمایت پر یورپی یونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔