بانڈ پر قرضہ لیکر جشن منانا شرمناک ، صوبوں کا ترقیاتی بجٹ وفاق سے زیادہ : دفاقی وزیر منصوبہ بندی
مستقبل کا دار و مدار صرف اس نکتے پر ہے کہ اگلے 10 سال میں 100 ارب ڈالر ایکسپورٹ ٹارگٹ حاصل کریں بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہونے سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے :احسن اقبال ،اجلاس سے خطاب
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کیلئے یہ نہایت شرمناک بات ہے کہ ہم کوئی بانڈ فلوٹ کریں اور اس پر جشن منائیں، بانڈ قرضہ ہے ، ہم اگراپنی زرمبادلہ کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ایک قرضہ لینے پر مجبور ہیں تو یہ جشن کا موقع نہیں بلکہ اپنے محاسبے کا لمحہ ہے ، گزشتہ آٹھ برسوں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ تقریباً ایک ہزار ارب روپے کی سطح پر جمود کا شکار ہے جبکہ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 2869 ارب روپے تک پہنچ چکا ،بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہونے کے باعث ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں ۔وہ سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔احسن اقبال نے تجارتی خسارے سے متعلق کہا کہ جب تک ہم اپنی پیداواری صلاحیت کو نہیں بڑھائیں گے تو ہمارے لیے معاشی خودمختاری حاصل کرنا ممکن نہیں،ہماری معاشی خودمختاری کا سارا انحصار ہمارے وسائل کی فراہمی پر ہے ،چاہے وہ داخلی اور ٹیکس کلیکشن کی صورت میں ہے یا خارجی، ڈالر کی ایکسپورٹ کے ذریعے کمائی کے اوپر ہے۔
انہوں نے کہا ہمیں اس کی طرف جانا ہے کہ ہم کیسے ایکسپورٹ ایمرجنسی کے ذریعے ، تمام صوبے اور وفاق پاکستان کے ایکسپورٹ کو اسی جذبے کے ساتھ بڑھائیں جس طرح ہم نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کامیاب بنایا تھا۔ہمارے مستقبل کا دار و مدار صرف اس ایک پوائنٹ پر ہے کہ ہم نے اگلے 10 سالوں میں 100 ارب ڈالر کے ایکسپورٹ ٹارگٹ کو حاصل کرنا ہے ،عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی فروخت بڑھانی ہو گی ۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی لاگت اور تھرو فارورڈ بڑھ کر 10 ہزار 818 ارب روپے تک پہنچ چکا، آئندہ مالی سال 2026-27 کے لئے 1126 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کی تجویز دی گئی ہے ۔ وزارتوں نے جاری اور نئے منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 4097 ارب روپے کی طلب پیش کی ہے تاہم محدود وسائل کے باعث تقریباً 3000 ارب روپے کی اضافی طلب پوری کرنا ممکن نہیں،بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے ۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت اپنی اتحادی جماعتوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 87 ارب روپے مختص کرے گی ، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور ضم شدہ اضلاع کیلئے 153 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے ،وفاق این ایف سی میں اپنے 40 فیصد حصے سے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو مالی معاونت فراہم کرے گا۔
احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایسی ترقی کے خواہاں ہیں جو پائیدار ہو اور جس کے ثمرات عوام تک پہنچیں،اپریل 2026 میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 21اعشاریہ 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ شرح سود 23 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد کی سطح پر آنا ایک بڑی معاشی کامیابی ہے ،2019 سے 2022 کے دوران لئے قرضوں کی ادائیگیاں اس وقت قومی معیشت پر بھاری بوجھ بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کرنا، انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل، سی پیک منصوبوں کو آگے بڑھانا اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کے اہم اہداف ہیں،پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کے سفر میں تمام اداروں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ واضح رہے گزشتہ مہینوں کے دوران پاکستان نے یورو بانڈز اور پانڈا بانڈز سے بالترتیب 75 کروڑ ڈالر اور 25 کروڑ ڈالر جمع کئے تھے جسے وزارت خزانہ نے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا۔