سٹاک مارکیٹ میں مندی، مئی میں مہنگائی 23 ماہ کی بلند ترین سطح پر

 سٹاک مارکیٹ میں مندی، مئی میں مہنگائی 23 ماہ کی بلند ترین سطح پر

کے ایس ای 100انڈیکس میں تقریباً 2 فیصد کی بڑی گراوٹ ، مہنگائی کی شرح 11اعشاریہ 7 فیصد تک پہنچ گئی ٹرانسپورٹ کرائے 37 فیصد بڑھے ،گندم ،آٹا 11اعشاریہ 21 ، موٹر فیول 7اعشاریہ 62 فیصد مہنگا ہوا:ادارہ شماریات

 کراچی ، اسلام آباد(نیوزایجنسیاں ، دنیا نیوز)سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا ،مئی  2026 میں مہنگائی کی شرح 11اعشاریہ 7 فیصد تک پہنچ گئی جو 23 ماہ کی بلند ترین سطح ہے جبکہ اپریل 2026 میں یہ شرح 10اعشاریہ 9 فیصد اور مئی 2025 میں 3اعشاریہ 5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔پیر کو کے ایس ای 100انڈیکس شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جس کے باعث 100 انڈیکس میں تقریباً 2 فیصد کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی اور100 انڈیکس دورانِ ٹریڈنگ 170,396 پوائنٹس کی دن کی نچلی ترین سطح پر چلا گیا۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 3362 پوائنٹس یا 1اعشاریہ 93 فیصد کی بھاری کمی سے 170,600 پوائنٹس پربند ہوا۔اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس 1190 پوائنٹس کی کمی سے 50975 پوائنٹس اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 6548 پوائنٹس کی کمی سے 243947 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ادھر ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11اعشاریہ 7 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 11اعشاریہ 5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ نان فوڈ، نان انرجی عمومی مہنگائی 9اعشاریہ 8 فیصد رہی۔ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں ٹرانسپورٹ کرائے 37 فیصد تک بڑھ گئے ، جبکہ ہاؤسنگ، واٹر، بجلی، گیس اور ایندھن 17 فیصد تک مہنگے ہوئے۔

اعداد و شمار کے مطابق کھانے پینے کی اشیا سالانہ بنیاد پر 8 فیصد مہنگی ہوئیں، جبکہ ایک سال میں تعلیم 8اعشاریہ 37 فیصد اور صحت کی سہولیات 7اعشاریہ 54 فیصد مہنگی ہو گئیں۔ادارہ شماریات کے مطابق ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے کرائے سالانہ بنیاد پر 5اعشاریہ 69 فیصد،کپڑوں اور جوتوں کے نرخ 8اعشاریہ 77 فیصد تک بڑھ گئے ۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ گندم کا آٹا 11اعشاریہ 21 فیصد تک مہنگا ہوا جبکہ گندم کی قیمت 7اعشاریہ 78 فیصد تک بڑھ گئی۔ آلو، بیکری آئٹمز، گوشت اور خشک دودھ بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل رہیں۔اعداد و شمار کے مطابق دودھ، کوکنگ آئل اور گھی بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں جبکہ گزشتہ ماہ جوتے 29 فیصد اور پوسٹل سروسز 9 فیصد تک مہنگی ہوئیں۔ادارہ شماریات کے مطابق موٹر فیول ایک ماہ میں 7اعشاریہ 62 فیصد تک مہنگا ہوا، جبکہ ٹرانسپورٹ سروسز 3اعشاریہ 70 فیصد اور مزدور کی اجرت 3اعشاریہ 64 فیصد بڑھ گئی۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں زیادہ ہونے کے سبب پاکستان کی برآمدی لاگت بڑھی ہے اور ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بڑھنے سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں