ٹرمپ کو دھچکا، ایران جنگ کیخلاف قرارداد منظور : ایوان نمائندگان میں حکمران ریپبلکن پارٹی کے 4 ارکان نے بھی بغاوت کردی حب الوطنی کے منافی حرکت : امریکی صدر
مذاکرات حتمی مراحل میں،یہ مجھے کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے :ٹرمپ، کویتی ایئرپورٹ پرحملہ نہیں کیا:پاسداران انقلاب،امریکا و اسرائیل جنگ میں ناکامی کے بعد تقسیم کا بیج بونا چاہتے :مجتبیٰ خامنہ ای لبنان اسرائیل نئی جنگ بندی چند گھنٹوں میں مسترد،معاہدہ شکست تسلیم کرنے کے مترادف:حزب اللہ،جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رہیں گی:اسرائیل،8 شہید،اسرائیلی فوج کا کیپٹن ماراگیا
واشنگٹن ،تہران(نیوز مانیٹرنگ ،رائٹرز)امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک قرار داد منظور کرلی ،جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں مزید فوجی کارروائی سے روکنا ہے ۔208 کے مقابلے میں یہ قرار داد 215ووٹوں سے منظور ہوئی ،چار ریپبلکن ارکان نے بغاوت کرتے ہوئے امریکا کی ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت میں ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔ایوان کی یہ قرار داد اب بھی ریپبلکن کے زیرِ کنٹرول امریکی سینیٹ کی منظوری کی محتاج ہے ۔ حتیٰ کہ اگر یہ سینیٹ میں منظور بھی ہو جائے تو بھی اس سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مکمل طور پر روک دینے کا امکان کم ہے ۔کیوں کہ ٹرمپ اس کو ویٹو کر سکتے ہیں، اور اس ویٹو کو کالعدم قرار دینے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کی اپنی جماعت کے ارکان میں اس تین ماہ پرانے تنازعے کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
اس قرارداد کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ جب تک ایران کیخلاف کانگریس باقاعدہ طور پر جنگ کا اعلان نہ کرے یا فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت نہ دے وہ امریکی فوجی دستے واپس بلائیں ۔یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کانگریس میں ایک اور سیاسی دھچکا تھا، اگرچہ ان کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے ۔ اس سے پہلے جنگی اختیارات سے متعلق تین قراردادیں ایوانِ نمائندگان میں بتدریج کم فرق سے ناکام ہو چکی تھیں، اور ایوان کی ریپبلکن قیادت نے گزشتہ ماہ اس قرارداد پر ووٹنگ اچانک مؤخر کر دی تھی جب یہ لگ رہا تھا کہ یہ منظور ہو سکتی ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کو حالیہ دنوں میں اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کی جانب سے کانگریس میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے ، جب کہ اس سے پہلے کئی مہینوں تک بہت کم ریپبلکن اراکین ان کی پالیسیوں پر کھل کر اختلاف کرتے تھے ۔
جمعرات کو ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کل ایک بے معنی ووٹ میں چار برے ری پبلکنز اور تمام ڈیمو کریٹس نے میرے اختیارات کو محدود کرنے کی قرارداد منظور کی اور وہ بھی اُس وقت جب ایران کے ساتھ مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایسے موقع پر حب الوطنی کے منافی حرکت کون کر سکتا ہے ، حالانکہ وہ سب جانتے ہیں کہ ہم مذاکرات کے کس موڑ پر کھڑے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس میری ایک اور کامیابی دیکھنے کے بجائے ملک کو ناکام ہوتا دیکھنا پسند کریں گے ۔قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے چار ری پبلکنز ارکان کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان ارکان کو شرم آنی چاہیے ۔ ادھر ترجمان ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران نے کویت کے ہوائی اڈے پر حملہ نہیں کیا،ہوائی اڈے پر تباہی ایرانی میزائل روکنے کے دوران امریکی دفاعی نظام میں خرابی کے باعث ہوئی۔ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی اڈوں کو تو نشانہ بنایا لیکن ایئرپورٹ پر حملہ نہیں کیا۔
سنٹرل کمانڈ نے ترجمان ایرانی پاسداران انقلاب کے بیان کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کویت ایئرپورٹ کو امریکی میزائل انٹرسیپٹر سے نقصان نہیں پہنچا ۔ایران کے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ میں ناکامی کے بعد ایران کے اندر تقسیم کا بیج بونا چاہتے ہیں، اپنے تحریری بیان میں انہوں نے کہا دشمن کو ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں شکست ہوئی ہے اور اسے اب ذلت کا سامنا ہے ۔دُشمن اب اپنی توجہ ہائبرڈ جنگ پر مرکوز کر رہا ہے اور اس کیلئے وہ جو آلہ استعمال کر رہا ہے ، وہ شک، مایوسی اور بداعتمادی پھیلانا ہے ۔امریکا کی قیادت میں سامراج نے پچھلے 80 سالوں میں اسرائیل کے نام سے ایک فوجی اڈا بنایا ہے اور وہ گریٹر اسرائیل یعنی دریائے فرات کے مشرق میں جھوٹے ، ناجائز جغرافیہ کی مشرقی سرحد پر ایک مضبوط، آزاد ایران کے وجود کو قبول نہیں کرتے ۔دوسری جانب لبنان اسرائیل نئی جنگ بندی چند گھنٹوں میں مستردکردی گئی، اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملے کیے اور بیروت پر مزید حملوں کی دھمکی بھی دی ، جبکہ حزب اللہ نے کہا لبنان اور اسرائیل میں کوئی بھی معاہدہ شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا۔
اس صورتحال نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان کوششوں کو دھچکا پہنچایا ہے جن کا مقصد لبنان میں لڑائی روک کر تہران کے ساتھ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے ۔امریکہ کی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے چوتھے دور کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے بدھ کو جنگ بندی پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس کے لیے ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا ‘مکمل خاتمہ’ ضروری قرار دیا گیا۔بیان کے مطابق دونوں فریق، جن کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات موجود نہیں، اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ ایسے ‘پائلٹ زونز’ قائم کیے جائیں گے جہاں لبنانی مسلح افواج علاقے کا ‘مکمل اور خصوصی کنٹرول’ سنبھالیں گی اور وہاں کسی بھی غیر ریاستی گروہ کی موجودگی نہیں ہوگی۔دونوں ممالک 22 جون کو دوبارہ ملاقات کریں گے تاکہ مزید بات چیت کی جا سکے ‘اور ایک جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے ۔اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر لبنانی شہریوں کو دریائے زہرانی کے جنوب میں واقع علاقوں میں نہ جانے کی ہدایت جاری کی۔ یہ دریا جنوبی لبنان میں تقریباً 45 کلومیٹر اندر واقع ہے ۔
اسرائیل نے گزشتہ ہفتے دریا کے جنوب میں واقع تمام علاقوں کو ‘جنگی زون’ قرار دیا تھا۔اسرائیل وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں اپنی زمینی کارروائیاں جاری رکھے گا اور جنوبی لبنان سے انخلا کرنے والے رہائشی ابھی اپنے گھروں کو واپس نہ جائیں۔لبنان کے جنوبی حصوں میں مختلف مقامات پر اسرائیلی ڈرون حملوں میں ایک شخص شہید ہو گیا، جبکہ جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے مورچے پر مارٹر گولے گرنے سے زخمی اہلکار دم توڑ گیا۔ مشرقی لبنان میں ایک حملے میں 5 افراد شہیدہوئے ، جبکہ جنوبی شہر صور کے قریب ہونے والے ایک اور حملے میں 3 افراد جان سے گئے ۔ زخمیوں میں 3 بچے اور 2 خواتین بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی 21 سالہ کیپٹن ایتان شموئیل لیمبرگ لڑائی کے دوران مارا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق یہ ہلاکت حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی ٹینک پر داغے گئے میزائل کے نتیجے میں ہوئی۔ حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کوئی بھی معاہدہ ہتھیار ڈالنے اور شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا۔انھوں نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو ‘بے وجہ، ذلت آمیز اور شرمناک’ قرار دیا اوردعویٰ کیا کہ لبنانی عوام کا ایک بڑا حصہ ان مذاکرات کو ‘دوٹوک طور پر’ مسترد کرتا ہے ۔حزب اللہ کے رہنما نے خبردار کیا کہ جب تک لبنانی علاقوں پر بمباری جاری رہے گی، شمالی اسرائیل محفوظ نہیں رہے گا۔