بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا : قومی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام ضروری آپشنز استعمال کرینگے : پاکستان

بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا : قومی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام ضروری آپشنز استعمال کرینگے : پاکستان

دو دریائی منصو بہ آگے بڑھا یا گیا تو جواب دینے پر مجبور ہونگے ، پانی، خوراک ،معاشی تحفظ ، عوام کی بقا ،فلاح کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی اقدام قابل قبول نہیں اسحاق ڈار نے امریکی وزیرخارجہ کیساتھ ایرانی نیوکلیئر پروگرام سے متعلق کوئی انٹیلی جنس شیئر نہیں کی، اس طرح کی خبروں کی تردید کرتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

 اسلام آباد (وقائع نگار ،نیوز ایجنسیاں، دنیا نیوز)پاکستان نے کہا ہے کہ حریف ملک بھارت کے دو دریائی منصوبے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ہیں ،یہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اہم معاہدے کی خلاف ورزی ہے ، پاکستان نے خبردار کیا کہ اگر یہ منصوبے آگے بڑھائے گئے تو وہ جواب دینے پر مجبور ہو سکتا ہے ۔ بھارت کا اصرار ہے کہ اسے اپنے کنٹرول میں موجود آبی وسائل پر ان منصوبوں پر عمل درآمد کا حق حاصل ہے ، اگرچہ ان سے ایسے دریاؤں کا بہاؤ اور نظام متاثر ہو سکتا ہے جو پاکستان اور بھارت دونوں سے گزرتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے صحافیوں کو بتایا کہ نئی دہلی نے دریائے چناب سے متعلق ان دونوں منصوبوں پر اسلام آباد کو کوئی اطلاع نہیں دی ، حالانکہ ان کے بقول یہ منصوبے معاہدہ ندھ طاس کو نقصان پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا، ‘‘یہ منصوبے ثابت کرتے ہیں کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اس کے نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔’’

بھارت نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ وہ معاہدہ سندھ طاس کو معطل کر رہا ہے ، جو کروڑوں لوگوں کے زیر استعمال آبی وسائل کے انتظام سے متعلق دوطرفہ معاہدہ ہے ۔ یہ اعلان دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسلح کشیدگی کے آغاز سے پہلے کیا گیا تھا۔تاہم اندرابی نے کہا یہ معاہدہ اب بھی دونوں حکومتوں پر قانونی طور پر لاگو ہے ۔پاکستان پہلے بھی کہہ چکا ہے سرحد پار دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو ‘‘جنگی اقدام’’ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ 1960 کے اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا کوئی طریقئہ کار موجود نہیں، جبکہ یہ معاہدہ ماضی کی تین جنگوں کے باوجود برقرار رہا ہے ،مئی میں بھارت کی سرکاری کمپنی نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (NHPC) نے ایک مجوزہ سرنگ منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیا، جس کے تحت دریائے چناب کا پانی موڑ کر دریائے بیاس کے آبی نظام میں شامل کیا جائے ۔

اندرابی نے کہا، ‘‘پاکستان کے پانی، خوراک اور معاشی تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کے 25 کروڑ عوام کی بقا اور فلاح کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی بھی غیر قانونی اقدام ناقابلِ قبول ہے ۔’’انہوں نے مزید کہا، ‘‘پاکستان معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ اور اپنے اہم قومی مفادات کے دفاع کے لیے تمام ضروری آپشنز استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔’’ ماہرین کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کا مسئلہ خطے میں ایک بڑے تنازع کا سبب بن سکتا ہے ، کیونکہ دونوں ممالک کی معیشتوں کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے اور آبی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے ۔بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا، ‘‘معاہدہ سندھ طاس کو معطل رکھنے کا بھارت کا فیصلہ بدستور برقرار ہے ۔’’ علاوہ ازیں پاکستان کے ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں یہ واضح کیا کہ وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق کوئی انٹیلی جنس شیئر نہیں کی اور ہم اس طرح کی خبروں کی تردید کرتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں