وفاقی بجٹ 290 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنے گا، اکنامک سروے 9 جون کو پیش کیا جائیگا
آئندہ سال ڈالر ریٹ مستحکم رہنے سے درآمدی بل ، مہنگائی کنٹرول میں رہیگی، درآمدات، برآمدات، قرضوںکے تخمینے تیار زرمبادلہ ذخائر 22ارب 63کروڑ ڈالر سے بڑھ گئے ،حکومت 2026-27کیلئے معاشی اہداف کا اعلان کریگی
اسلام آباد (مدثر علی رانا) آئندہ مالی سال 2026-27 کیلئے بجٹ 290 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنے گا، اکنامک سروے 9 جون اور بجٹ 10 جون کو پیش ہوگا، وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب بجٹ پیش کرینگے ، رواں مالی سال 2025-26 کے بجٹ کیلئے ڈالر ریٹ 290 روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، آئندہ مالی سال کیلئے ڈالر ریٹ کو رواں مالی سال کی سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔ وزارت خزانہ نے نظرثانی کرتے ہوئے رواں مالی سال کیلئے حقیقی ریٹ 280 روپے فی ڈالر مقرر کیا ہے ، مالی سال 2025 کے دوران ڈالر ریٹ 295 روپے مقرر کیا گیا تھا۔ ایکسچینج ریٹ یا شرح مبادلہ ڈالر کی نسبت لوکل کرنسی میں قیمت ہے۔ ڈالر ریٹ تعین کرنے کا مقصد بیرونی امداد، ادائیگیوں اور قرضوں کا تخمینہ روپے میں لگانا ہے لیکن ڈالر ریٹ آئی ایم ایف کیساتھ طے شدہ شرط کے مطابق مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔
آئندہ مالی سال کیلئے مقرر ایکسچینج ریٹ میں مقامی کرنسی مستحکم ہونے کے باعث سرمایہ کاری کا رجحان بڑھے گا۔ رواں مالی سال کے دوران ترسیلات زر میں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ، ایکسٹرنل ادائیگیوں کا پریشر کم ہونے کے باعث مقامی کرنسی کی قدر میں استحکام رہا۔ آئندہ مالی سال ڈالر ریٹ مستحکم رہنے کے باعث درآمدی بل اور مہنگائی کنٹرول میں رہے گی۔حکومت کی جانب سے ہر سال بجٹ تیاری کے موقع پر ملکی آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے ۔ دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت، بیرونی قرضے ، امداد اور سرمایہ کاری بھی غیر ملکی کرنسیوں میں ہوتی ہے ، اس لیے بجٹ تیاری میں متوقع ایکسچینج ریٹ مقرر کرنا نہایت ضروری ہے۔ اگر حکومت شرح مبادلہ کا تعین نہ کرے تو بیرونی ادائیگیوں اور آمدنی کا درست حساب لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔
حکومت کو ہر سال بیرونی قرضوں اور ان پر واجب الادا سود کی ادائیگی کرنی ہے ۔ یہ ادائیگیاں ڈالر، یورو یا دیگر غیر ملکی کرنسیوں میں کی جاتی ہیں۔ بجٹ تیاری کے موقع پر حکومت متوقع ایکسچینج ریٹ مقرر کرکے قرضوں کی ادائیگی کیلئے رقم کا تخمینہ لگایا جاتا ہے ۔ شرح مبادلہ میں اچانک تبدیلی آجائے اور ملکی کرنسی کی قدر کم ہو جائے تو حکومت کو مقررہ حد سے زیادہ رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے جس سے بجٹ پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور اکنامک توازن برقرار نہیں رہ سکتا۔پاکستان کی دیگر ممالک سے پٹرولیم مصنوعات، مشینری، ادویات اور صنعتی خام مال کے علاوہ دیگر درآمدات ہیں۔ ان درآمدات کی قیمت غیر ملکی کرنسی میں ادا کی جاتی ہے ۔ بجٹ میں ایکسچینج ریٹ مقرر کرنے سے حکومت درآمدی اخراجات کا درست تخمینہ لگانے کے قابل ہوتی ہے ۔
اگر شرح مبادلہ بڑھ جائے تو درآمدی اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور حکومت کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ایکسچینج ریٹ کا تعلق حکومتی آمدنی سے بھی ہوتا ہے ۔ برآمدات، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی رقوم ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بجٹ بناتے وقت حکومت ایک متوقع شرح مبادلہ کی بنیاد پر اندازہ لگاتی ہے کہ ان ذرائع سے کتنی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے ۔بجٹ کیلئے ایکسچینج ریٹ مقرر کرنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ حکومت بیرونی قرضوں، درآمدات، برآمدات، ترسیلات زر اور دیگر بین الاقوامی مالی معاملات کا درست اندازہ لگا سکے اور مالی منصوبہ بندی بہتر ہو۔
ترجمان مرکزی بینک کے مطابق 29 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 22 ارب 63 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ۔ سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 19 کروڑ 4 لاکھ ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی ذخائر 5 ارب 44 کروڑ 56 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے ۔ اس طرح ملکی مجموعی زرمبادلہ ذخائر 22 ارب 63 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ۔گزشتہ ہفتے کے دوران سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 4 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ۔وزارت خزانہ اعلامیہ کے مطابق 10 جون کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ 2026-27 پیش کریں گے ۔ بجٹ سے قبل پاکستان اکنامک سروے 2025-26 نو جون کو جاری کیا جائے گا جو وزیر خزانہ پیش کریں گے ۔