غربت میں اضافہ : اقتصادی سروے، آج بجٹ، تنخواہوں میں اضافے کا امکان
زیادہ تر اہداف میں ناکامی،59 لاکھ افراد بے روزگار،خواندگی 63 فیصد،شرح ترقی3.7فیصد رہی 6 سے 7 نئی سبسڈی سکیموں کی تیاری:اورنگزیب ،وفاقی بجٹ 18ہزار ارب سے زائد ہونیکا امکان
اسلام آباد(مدثرعلی رانا،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرخزانہ محمداورنگزیب نے اقتصادی سروے لانچنگ تقریب کے دوران بتایا کہ چار برسوں بعد معاشی شرح نمو 3.7فیصد ریکارڈ ہوئی، آئندہ مالی سال 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ حاصل کریں گے ، گزشتہ سال میں مون سون بارشوں، اندرونی و بیرونی چیلنجز اور مشرق وسطٰی بحران کے باوجود پاکستانی معیشت نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق حکومت نے اپنے دو برسوں میں مجموعی طور پر 8 ہزار 192 ارب روپے ٹیکس چھوٹ دی، 2025 سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی میں ساڑھے 23 سو ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی، 2024 میں سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 58 سو ارب روپے ٹیکس چھوٹ دی، 2025 میں انکم ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر 580 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی، سیلز ٹیکس کی مد میں 1 ہزار 273 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی ، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں بھی 499 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے ۔
رواں مالی سال بھی حکومت زیادہ تر معاشی اہداف حاصل نہیں کر سکی، ملکی معاشی شرح نمو 4.2 فیصد ہدف کے برعکس 3.7 فیصد تک محدود رہی، اوسطاً مہنگائی 7.50 فیصد سالانہ ہدف کی نسبت 11 ماہ کے دوران 7 فیصد رہی ،مئی 2026 میں مہنگائی کی ماہانہ شرح 11.66 فیصد ریکارڈ کی گئی، رواں مالی سال فی کس آمدن 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک محدود رہی، رواں مالی سال فی کس آمدن کا سالانہ ہدف 5 لاکھ 60 ہزار 803 روپے تھا ،ڈالر میں فی کس آمدن 150 ڈالر اضافے سے 1901 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ زرعی اور صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف بھی رواں مالی سال حاصل نہیں ہوسکا، زرعی شعبے کی عبوری کارکردگی 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے 2.89 فیصد رہی، صنعتی شعبے کی گروتھ 4.30 فیصد ٹارگٹ کی نسبت 3.51 فیصد رہی ہے ، خدمات کے شعبے کی کارکردگی 4 فیصد ہدف سے معمولی زیادہ 4.09 فیصد رہی، ترسیلات زر میں 9 فیصد اضافہ کیساتھ 11ماہ میں ترسیلات 38 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئی، ترسیلات زر مالی سال کے آخر تک 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے ۔
پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی، ہر 100 میں سے تقریباً 29 پاکستانی خط غربت سے نیچے ہیں، ماہانہ 8 ہزار 483 روپے کمانے والا شہری غریب نہیں، یہ رقم صرف 30.5 امریکی ڈالر کے مساوی بنتی ہے ۔ دیہی علاقوں میں غربت 36.2 فیصد، شہروں میں 17.4 فیصد ریکارڈ ہوئی ۔بلوچستان میں غربت سب سے زیادہ 47 فیصد، پنجاب میں سب سے کم 23.3 فیصد ہے ، سندھ 32.6 فیصد، خیبرپختوانخوا میں غربت کی شرح 35.3 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ 2018-19 کے بعد غربت میں دوبارہ اضافہ ریکارڈ ہوا ہے ، 2018-19 میں ملک میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی، مہنگائی اور معاشی دباؤ سے لاکھوں افراد غربت کی طرف دھکیل دئیے گئے ۔ اقتصادی سروے کے مطابق عدم مساوات میں بھی اضافہ ہوا، پاکستان میں عدم مساوات 28.4 فیصد سے بڑھ کر 32.7 فیصد ہوگئی، سندھ میں معاشی عدم مساوات سب سے زیادہ 35.9 فیصد ہے ، پنجاب میں عدم مساوات کی شرح 32 فیصد ہے ، کے پی کے 29.4 فیصد، بلوچستان میں 26.6 فیصد ہے ۔
پاکستان میں 59 لاکھ افراد بے روزگار ہیں، سال 2025 میں 7 لاکھ 62 ہزار 499 افراد روزگار کیلئے بیرون ملک گئے ۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2025-26 کا اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اندرونی و بیرونی چیلنجز، عالمی غیر یقینی صورتحال، مون سون بارشوں اور مشرق وسطٰی کے بحران کے باوجود پاکستانی معیشت نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی ،سپورٹس مصنوعات کی برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور آئندہ فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان میں تیار کردہ فٹ بال استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فری لانسرز کا حصہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے جبکہ ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور رواں سال 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔
اقتصادی سروے کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالررہ گیا ہے ،جبکہ زرعی قرضوں میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ چکی ہے ،پاکستان نے پانڈا بانڈ کا کامیاب اجرا کیا ہے ۔ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ملک میں 39 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مشرق وسطٰی کی صورتحال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا، فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی۔ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال سے بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکا لگا لیکن مشرق وسطٰی کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی، جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ72 ملین ڈالر مثبت رہا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی، ڈیری اورلائیو سٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصدحصہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی ، فوڈ، ٹیکسٹائل سمیت 16 شعبوں میں مثبت رجحان رہا، سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد اضافہ ہوا، کھاد کی طلب میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خدمات کے شعبے میں شرح نمو 4.9 فیصد رہی۔ وزیر خزانہ کے مطابق مالی نظم و ضبط کی وجہ سے مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی ہوئی، ایف بی آر کے محصولات میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا، افراط زر میں گزشتہ 2 سال میں بتدریج کمی ہوئی، مہنگائی کی اوسط شرح 6.7 فیصد رہی، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، اوورسیز پاکستانیوں کے شکرگزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی ادائیگی کیلئے ترسیلات زر بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ، چاول اور چینی کی وجہ سے مجموعی برآمدات میں کمی ہوئی، ٹیکسٹائل کے شعبے کا برآمدات میں کلیدی کردار ہے ۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کا بنا ہوا فٹ بال استعمال ہوگا، سپورٹس کی برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد ہیں،جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے ۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے ، 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، فری لانسرز کا حصہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے ، مینو فیکچرنگ کے 22 میں سے 16 شعبوں میں بہتری آئی، مالی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد رہ گیا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، پانڈا بانڈ کا کامیاب اجراء کیا گیا، ٹیکس محصولات میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا، وزیراعظم برآمدات کو بڑھانا چاہتے ہیں ۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ درآمدات میں کمی ہماری ترجیح ہے ، زرعی قرضوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے ، ملک میں شرح خواندگی 63 فیصد ہوگئی ہے ، صنعتوں کیلئے بجلی سستی کی گئی، صنعتی ٹیرف سے کراس سبسڈی ختم کی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کیلئے جولائی تا مارچ 2162 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے ، غریب خاندانوں کیلئے بی آئی ایس پی کا بجٹ بڑھا کر 722.5 ارب روپے کر دیا گیا، پی آئی اے ، ایف ڈبلیو بی ایل اور ڈسکوز سمیت سرکاری اداروں کی نجکاری پر کام تیز کیا گیا، وزارتوں کے انضمام اور پی ڈبلیو ڈی سمیت متعدد محکموں کو بند کرنے کیلئے رائٹ سائزنگ شروع کی گئی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جون کے اختتام تک 18 ارب ڈالر کیساتھ زرمبادلہ کے ذخائر درآمدات کے تین ماہ کے اخراجات کے برابر ہو جائیں گے ۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک کی مجموعی افرادی قوت8کروڑ 31 لاکھ 40 ہزار افراد پر مشتمل ہے ، جن میں سے 7کروڑ 72 لاکھ افراد برسر روزگار ہیں، جبکہ 59 لاکھ افراد بے روزگار ہیں، اس طرح بیروزگاری کی شرح میں 7.1 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے ، کاروباری طبقے کو سہولت فراہم کرنے کیلئے زرعی اور ہاؤسنگ شعبے سمیت 6 سے 7 نئی سبسڈی سکیمیں متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے ، جن کے تحت طویل المدتی اور کم شرح سود پر فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔ دریں اثناء وفاقی حکومت مالی سال 27-2026 کا اپنا تیسرا ترقی اور عوامی ریلیف پر مبنی وفاقی بجٹ آج بروز جمعہ قومی اسمبلی میں 3 بجے پیش کرے گی ،جس کا مجموعی حجم تقریباً 18 ہزار ارب روپے ہونے اور تنخواہوں میں اضافے کا امکان ہے ۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے ۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے ہو گا ،جبکہ قرضوں پر سود ادا کرنے کیلئے 7 ہزار 824 ارب روپے کی بھاری رقم مختص کی جائے گی۔دفاعی بجٹ کیلئے 3 ہزار ارب روپے رکھے جائیں گے ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان ہے ۔پٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان مرتب کیا گیا ہے ۔ برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر مقرر کیا جائے گا۔بجٹ میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا، پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوگا۔ سابق فاٹا کا ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے ۔بجٹ پیش کرنے کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا،جبکہ سینیٹ کا بجٹ اجلاس 5 بجے طلب کیا گیا ہے۔