پرتشدد مظاہروں کا جواز نہیں، مہاجرین کی نشستوں کا فیصلہ ووٹ سے ہوگا : خواجہ آصف

پرتشدد مظاہروں کا جواز نہیں، مہاجرین کی نشستوں کا فیصلہ ووٹ سے ہوگا : خواجہ آصف

پاکستان آتے سرحد پر سوا دو لاکھ کشمیری شہید ہوئے ، قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، وزیر دفاع کا اسمبلی میں اظہار خیال مہاجرین کشمیر کی نشستوں، کورم تنازع پر حکومت اپوزیشن میں نوک جوک ، اقبال آفریدی کی رکنیت پورے سیشن کیلئے معطل پی آئی اے ،ٹیلی مواصلات بل منظور ،صومالی قزاقوں کی تحویل میں پاکستانیوں کی بازیابی کیلئے کوششیں جاری ہیں ، طارق فضل

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ،نامہ نگار، نیوز ایجنسیاں )قومی اسمبلی کے اجلاس میں مہاجرین کشمیر کی نشستوں ، پی آئی اے نجکاری، مختلف قانون سازی اور کورم کے معاملے پر حکومت و اپوزیشن کے درمیان نوک جوک جاری رہی جبکہ تلخ جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے  میں آیا ، پی ٹی آئی کے رکن اقبال آفریدی کی موجودہ اجلاس کے پورے سیشن کیلئے رکنیت بھی معطل کردی گئی ،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 25 لاکھ مہاجرین کشمیر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ،ان کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ عوام کے سامنے رکھا جانا چا ہئے ، فیصلہ ووٹ کی پرچی سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پرتشدد مظاہروں کا کوئی جواز نہیں، پاکستان کشمیریوں کو اپنا سمجھتا ہے نہ جانے اتنی نفرت کہاں سے آئی ،مہاجرین کشمیر نے پاکستان آنے کی بھاری قیمت ادا کی ، کشمیری مہاجرین نے پاکستان کی سرزمین پر آنے کی قیمت ادا کی ، سیالکوٹ سرحد پار پر سوا دو لاکھ کشمیری شہید ہوئے ، توی اور چناب ان کے خون سے سرخ ہوگئے ، کالعدم ایکشن کمیٹی ان سے ووٹ کا حق چھیننے کی بات کر رہی ہے ، 25 کروڑ پاکستانیوں کی اس سے وابستگی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مظاہرین ان ایشوز کو عوام کے پاس لے کر جائیں ان کو فیصلہ کرنے دیں ، ویلی اور جموں سے آنے والوں سے کشمیریت کی شناخت نہیں چھین سکتے ، یہ معاملہ ووٹرز کے پاس لے جایا جائے وہ اس پر فیصلہ کریں ،قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ قرار دیا ، ہم اس کی تاحیات حفاظت کرینگے ، انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ بانی کیلئے احتجاج ضرور کرے مگر ایوان کے تقدس کا خیال رکھا جائے اور سیاسی اختلافات کے باوجود پارلیمانی نظام کو نقصان نہ پہنچایا جائے ، اجلاس کے دوران ایوان نے مختلف قانون سازی کی بھی منظوری دی ، حکومتی رکن ہما اختر چغتائی اور پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر کی جانب سے پیش کی گئی متعدد ترامیم کثرت رائے سے منظور کر لی گئیں۔ وفاقی وزیر آئی ٹی نے وضاحت کی کہ ایک ترمیم کے ذریعے اپیلیٹ ٹربیونل کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں تبدیلی کی جا رہی ہے ،قومی اسمبلی نے (پی آئی اے ) کارپوریشن تبدیلی (تنسیخی) بل 2026 بھی منظور کر لیا۔ مشیر نجکاری محمد علی نے بتایا کہ پی آئی اے کو گزشتہ دو دہائیوں میں تقریباً 500 ارب روپے کا نقصان ہوا اور نجکاری کے بعد نئی انتظامیہ ایک سال میں 180 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گی ۔

پی آئی اے کے 100 فیصد حصص نجی شعبے کو منتقل کئے جا رہے ہیں، جبکہ ملازمین کی ملازمتوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ، انہوں نے واضح کیا کہ نئی انتظامیہ کو ہیڈکوارٹرز کی جگہ کے تعین کا اختیار ہوگا۔ قومی اسمبلی نے پاکستان ٹیلی مواصلات (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے دی ، اجلاس کے د وران وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات شزہ فاطمہ خواجہ نے پاکستان ٹیلی مواصلات تنظیم نو ایکٹ 1996 میں مزید ترمیم کا بل قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لانے کی تحریک پیش کی ،اس کی منظوری کے بعد الگ فہرست میں درج ترامیم پیش کی گئیں ۔ قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیاکہ سندھ نے رواں خریف میں 10 فیصد اضافی پانی استعمال کیا گیا جبکہ پنجاب نے 17 فیصد کم پانی استعمال کیا ،سید نوید قمر سمیت دیگر ارکان کے سندھ اور بلوچستان میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہونے اور شدید مشکلات کے باعث بننے والے ارسا کے یکطرفہ اقدامات سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے و فاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے کہا کہ ارسا کی طرف سے وضاحت کی گئی ہے کہ تمام صوبوں کو خریف میں دو مراحل میں پانی کی فراہمی کی جارہی ہے ۔

اجلاس کے دوران رکن اسمبلی عالیہ کامران کے توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے بتایا کہ اسلام آباد کے لوہی بھیر سفاری پارک منصوبے کے لیے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کر لی گئی اور حکومت مکمل فنڈنگ کے ساتھ ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ،قومی اسمبلی میں کورم کے مسئلے پر بھی کشیدگی دیکھنے میں آئی ، پی ٹی آئی کے رکن اقبال آفریدی کی جانب سے بار بار کورم کی نشاندہی پر سپیکر سردار ایاز صادق اور حکومتی ارکان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ،سپیکر نے خبردار کیا کہ بجٹ اجلاس کے دوران بار بار کورم کی نشاندہی کرنے والی جماعت کے مقررہ وقت میں کٹوتی کی جا سکتی ہے ، اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔بعد ازاں ایوان نے فرح ناز اکبر کی جانب سے پیش کی گئی تحریک منظور کرتے ہوئے اقبال آفریدی کی رکنیت موجودہ اجلاس کے پورے سیشن کے لیے معطل کر دی ، وزیر مملکت طلال چودھری نے الزام عائد کیا کہ اقبال آفریدی کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ کے غلط استعمال سے بیرون ملک سفر کیا، جبکہ سپیکر نے اس معاملے کو مزید جانچ کے لئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ، سپیکر نے کہا کہ معطلی کے دوران اقبال آفریدی کسی الاؤنس یا مراعات کے حقدار نہیں ہوں گے ، تحریک کی منظوری کے بعد اقبال آفریدی ایوان سے باہر چلے گئے ،اجلاس کے دوران طارق فضل چودھری نے صومالی قزاقوں کی تحویل میں موجود پاکستانیوں کی بازیابی کے لئے حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ نائب وزیراعظم نے اس معاملے پر اقدامات تیز کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں