مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد : سپریم کورٹ کا فیصلہ محض اتفاق رائے کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جاسکتا : آئینی عدالت

مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد : سپریم کورٹ کا فیصلہ محض اتفاق رائے کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جاسکتا : آئینی عدالت

جانوروں کے حقوق تو تسلیم لیکن انسانوں کے حقوق کا کیا ؟مونال کی لیزکی تجدیداوردیگراپیلیں زیرسماعت تھیں،جسٹس حسن سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل، اپنا مسلط کرنا چاہتے نہ فریقین کو سنے بغیر کوئی حکم :ریمارکس

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کی بندش اور مسماری سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کردی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی  میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔دوران سماعت وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی حمایت کی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے سپریم کورٹ فیصلے سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ فیصلے کے مطابق جانوروں کے حقوق تو تسلیم کیے گئے لیکن انسانوں کے حقوق کا کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا مونال کی لیز کی تجدید سے متعلق مقدمہ سول کورٹ میں زیر التوا تھا جبکہ بعض ریسٹورنٹس کی انٹرا کورٹ اپیلیں بھی ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھیں،مونال ریسٹورنٹ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے ایک ہی فیصلے کے ذریعے مختلف عدالتوں میں زیر التوا تمام مقدمات نمٹانے کا حکم دے دیا تھا۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ متعلقہ فریقین کو سنے بغیر فیصلہ کرنے کا نکتہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا گیا اور وہاں تمام وکلا خاموش کیوں رہے ؟ وکیل احسن بھون نے کہا وہ آج بھی اسی ادب کے ساتھ عدالت میں کھڑے ہیں جیسے سپریم کورٹ میں کھڑے تھے ۔ اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہے ، ادب سے تو درباری کھڑے ہوتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وائلڈ لائف بورڈ سے متعلق نیا قانون 2024 میں نافذ ہو چکا، فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ سول کورٹ میں زیر التوا مقدمات کو چلنے دیا جائے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے ،جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ عدالتیں وکلا کے اتفاق رائے سے نہیں چلتیں اور سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا ایسا فیصلہ محض اتفاق رائے کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے مزید کہا عدالتی حکم واپس لینے کے لیے تفصیلی فیصلہ دینا ہوگا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وہ سپریم کورٹ کی طرح کسی پر اپنا فیصلہ مسلط نہیں کرنا چاہتی اور نہ ہی فریقین کو سنے بغیر کوئی حکم جاری کرے گی۔بعد ازاں عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں