ٹرانسپورٹ اور مواصلات سیکٹرز کی کارکردگی میں گراوٹ

ٹرانسپورٹ اور مواصلات سیکٹرز کی کارکردگی میں گراوٹ

ریلوے بحران سے دوچار، مسافروں میں 22، مالی برداری میں 16.8فیصد کمی پاکستان پوسٹ کے 289پوائنٹس و نیٹ ورک سٹیشنز بند:اقتصادی سروے دستاویز بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں بہتری، کارگو ہینڈلنگ 7کروڑ 84لاکھ ٹن ریکارڈ

اسلام آباد (عادل تنولی ) مالی سال کے دوران ٹرانسپورٹ اینڈ شعبہ مواصلات کو مجموعی طور پر گراوٹ کا سامنا رہا، پاکستان ریلوے اور پاکستان پوسٹ کی کارکردگی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اقتصادی سروے 2025-26 کی دستاویز کے مطابق موجودہ مالی سال ریلوے شدید بحران سے دوچار رہی۔ ریلوے کے مسافروں کی تعداد گزشتہ سال کے 3 کروڑ 9 لاکھ 80 ہزار سے کم ہو کر 2 کروڑ 41 لاکھ 60 ہزار رہ گئی جس میں 22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ریلوے کی مال برداری سرگرمیوں میں 16.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، تجارتی مال برداری کی ٹریفک 58 لاکھ 16 ہزار ٹن کلومیٹر سے کم ہو کر 48 لاکھ 39 ہزار ٹن کلومیٹر تک محدود ہو گئی۔

اقتصادی سروے کے مطابق ملک بھر میں پاکستان پوسٹ کے 289 پوائنٹس اور نیٹ ورک سٹیشنز بند ہو گئے ، ادارے کا مجموعی نیٹ ورک 9 ہزار 984 پوائنٹس سے کم ہو کر 9 ہزار 695 پوائنٹس رہ گیا۔ دوسری جانب ملکی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر بندرگاہوں پر کارگو سرگرمیوں میں اضافہ ہوا، مجموعی کارگو ہینڈلنگ بڑھ کر 7 کروڑ 84 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق ریلوے اور ڈاک کے شعبوں میں مسلسل کمی ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی ڈھانچے کے لیے تشویش کا باعث ہے ، تاہم بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ملکی تجارت اور معیشت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں