سانحہ بلدیہ کی ذمہ دار سیاسی جماعت نہیں فیکٹری مالکان،متاثرہ خاندان
کراچی (سٹاف رپورٹر،این این آئی) مزدور رہنماؤں اور سانحہ بلدیہ کے کئی متاثرہ خاندانوں نے کہا ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا رخ موڑا گیا، سانحہ کے حوالے سے ہمارا واضح موقف ہے کہ اس کی ذمہ دار کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ فیکٹری مالکان ہیں۔۔۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہے، اس فیصلے کا قانونی جائزہ لیا جارہا ہے ، ہمارا موقف ہے فیکٹری ورکرز کو تحفظ دینے کے فوری اقدام کیے جائیں، سانحہ بلدیہ کے اصل ذمہ داروں کا احتساب اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے ، ایم کیوایم ، پیپلز پارٹی سمیت کسی جماعت نے ہمارا ساتھ نہیں دیا ، وفاقی حکومت کی اعلان کردہ امداد تاحال متاثرین کو نہیں ملی ۔ متاثرہ خاندانوں کی حسنہ خاتون اورمحمد صدیق نے کہا سانحہ بلدیہ فیکٹری کے ذمہ دار و قاتل فیکٹری مالکان ہیں، واقعہ کے وقت انہوں نے تالے لگوائے جس کی وجہ سے لوگ جل کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔انسانی حقوق کے رہنماؤں نے کہا سیاسی جماعت پر الزام لگانا آسان ہے ، اس سانحہ کے اصل ذمہ دار مالکان ہیں، سرمایہ داروں کو بچایا نہ جائے ۔ان خیالات کا اظہار نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور نے ہفتہ کو کراچی پریس کلب میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کے کئی متاثرہ خاندانوں اور مزدور رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹان سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے نے ہمارے اس دیرینہ موقف کو مزید تقویت دی ہے کہ اس المناک سانحے کے اصل ذمہ دار فیکٹری مالکان اور وہ حکومتی ادارے تھے جو کارگاہوں کو محفوظ بنانے اور مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ذمہ دار تھے ،بدقسمتی سے ذمہ داران کو بچانے کے لیے مقدمے کا رخ ایک مخصوص سمت میں موڑ دیا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف اصل ذمہ دار احتساب سے بچ گئے بلکہ وہ تمام قانونی راستے بھی مسدود ہو گئے جو حقیقی ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لا سکتے تھے ، اگر اس ہولناک جرم میں ملوث افراد اور اداروں کا موثر احتساب کیا جاتا اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جاتی تو آج ملک بھر کی لاکھوں چھوٹی بڑی کارگاہوں میں کام کرنے والے کروڑوں مزدوروں کی زندگیاں زیادہ محفوظ ہوتیں، نگر افسوس ایسا نہ ہو سکا، 260 سے زائد مزدوروں کا خون آج بھی انصاف کا متقاضی ہے ۔ اس سے بھی بڑی ناانصافی یہ ہے کہ طاقتور صنعتی لابی اور حکومتی اداروں کی نااہلی اور ذمہ داری کو چھپانے کے لیے عوام اور رائے عامہ کو بھتہ خوری اور دہشت گردی کی کہانیوں کے ذریعے گمراہ کیا گیا۔