بجٹ بحث میں سنجیدہ تجاویز کم، ارکان کی عدم دلچسپی نمایاں
اپوزیشن نے معاشی مسائل پر ٹھوس تجاویز کے بجائے سیاسی نکات کو زیادہ اہمیت دی ڈپٹی سپیکر نے نام مانگے مگر کسی نے بجٹ بحث میں حصہ لینے میں دلچسپی ظاہر نہ کی
اسلام آباد (اسلم لُڑکا) جمہوری نظام میں اپوزیشن کا کردار صرف حکومت پر تنقید تک محدود نہیں ہوتا بلکہ متبادل پالیسیوں اور قابل عمل تجاویز دینا بھی ان کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر جاری بحث کے دوران اپوزیشن کی توجہ بجٹ کی تفصیلات، عوامی ریلیف اور معاشی چیلنجز کے بجائے سیاسی معاملات پر زیادہ رہی۔ اپوزیشن ارکان نے ہمیشہ اپنی جماعت کے قائد کی رہائی، نعرے بازی اور حکومت پر شدید تنقید کو زیادہ اہمیت دی، جبکہ بجٹ تجاویز پر گفتگو نسبتاً کم رہی۔ملک اس وقت مہنگائی، بے روزگاری اور کاروباری مشکلات جیسے سنگین معاشی مسائل سے دوچار ہے جن پر ایوان میں سنجیدہ بحث اور ٹھوس تجاویز کی توقع کی جا رہی تھی۔
عوام یہ امید رکھتے ہیں کہ منتخب نمائندے روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی، روزگار کے مواقع اور معاشی استحکام کے لیے عملی حل پیش کریں گے ۔بجٹ بحث کے دوران یہ امر بھی سامنے آیا کہ کئی ارکان بحث کے لیے موجود نہیں تھے جس کے باعث ایوان میں گہما گہمی کے باوجود سنجیدہ بحث کا تسلسل متاثر ہوا۔ اجلاس طویل ہونے پر ارکان اکتاہٹ کا شکار دکھائی دئیے ۔ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفی شاہ نے پارلیمانی لیڈرز سے درخواست کی کہ وہ اپنے ارکان کے نام بحث کے لیے فراہم کریں تاہم اجلاس کے اختتام تک کوئی نام سامنے نہ آ سکا۔ بعد ازاں ڈپٹی سپیکر نے ایوان سے رائے لی کہ جو رکن بجٹ بحث میں حصہ لینا چاہتا ہے وہ ہاتھ اٹھائے مگر کسی رکن نے بھی شرکت کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔