ججز کو سیاسی و سفارتی تقریبات میں شرکت کی مشروط اجازت
چیف جسٹس کی پیشگی اجازت ضروری قرار:سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس ججز پر دباؤ، شکایات اور عدالتی مداخلت پر کارروائی کا نیا نظام تشکیل:اعلامیہ
اسلام آباد (دنیا نیوز)سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی۔وفاقی آئینی عدالت بھی دائرہ کار میں شامل ہوگی ،یہ فیصلہ 11 جون 2026 کو چیف جسٹس پاکستان اور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ ہفتے کوکونسل سے جاری اعلامیے کے مطابق ضابطہ اخلاق میں وفاقی آئینی عدالت کا نام شامل کر دیا گیا ہے جس کے بعد یہ ضابطہ وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز پر لاگو ہوگا۔ترمیم شدہ ضابطہ اخلاق کے تحت ججز کی سماجی اور ثقافتی تقریبات میں شرکت پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے ، شق 12 میں ترمیم کے بعد ججز متعلقہ چیف جسٹس کی پیشگی اجازت سے سیاسی اور سفارتی تقریبات میں بھی شرکت کر سکیں گے تاہم ایسی تقریبات میں شرکت کے لیے چیف جسٹس سے اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ججز پر دباؤ، شکایات اور عدالتی مداخلت پر کارروائی کا نیا نظام تشکیل دے دیا گیا،ججز پر دباؤ، شکایت یا عدلیہ میں مداخلت سے متعلق ترامیم کی منظوری دی گئی، شکایت کی صورت میں ہائیکورٹ کے ججز متعلقہ چیف جسٹس کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے ۔سپریم کورٹ، آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور دونوں عدالتوں کے دو دو سینئر ترین ججز کو بھی آگاہ کیا جائے گا، ججز کمیٹی شکایات پر 14 روز میں کارروائی مکمل کرے گی۔اعلامیہ کے مطابق مقررہ مدت میں کاروائی نہ ہو تو سپریم کورٹ اور آئینی عدالت خود معاملہ دیکھیں گے ، وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ججز اپنے چیف جسٹس اور چار سینئر ججز کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے ۔