عدالتی فیصلے سے ایم کیو ایم سرخرو ہو کر ابھری،اراکین مرکزی کمیٹی
برسوں سے قائم سیاسی الزامات اور منفی بیانیے کا یکسر خاتمہ ایک بڑی اخلاقی و سیاسی فتح عوام کی خدمت کا سفر مزید تندہی سے جاری رکھیں گے ، بیرسٹر فروغ نسیم سے ملاقات
کراچی (سٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی مرکزی کمیٹی کے اراکین نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں سپریم کورٹ کے تاریخی اور دوررس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ایم کیو ایم سیاسی و قانونی محاذ پر مکمل طور پر سرخرو ہو کر ابھری، ڈیڑھ دہائی پر محیط سنگین الزامات سیاسی انتقام اور یکطرفہ میڈیا ٹرائل کے بعد عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے نے پارٹی کے مؤقف پر صداقت کی حتمی مہر ثبت کر دی ہے جس سے مخالفین کا پورا بیانیہ مٹی میں مل گیا۔ اس حوالے سے ایم کیو ایم کی مرکزی کمیٹی کے سینئر اراکین رضوان بابر اور کیف الوریٰ کی قیادت میں وفد نے ممتاز قانون دان اور پارٹی رہنما بیرسٹر فروغ نسیم سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی۔
وفد میں قائد حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی علی خورشیدی سمیت حق پرست اراکین سندھ اسمبلی طحہٰ احمد، معاز محبوب، معید انور، نصیر احمد، انیل کمار، اعجاز الحق، عادل عسکری، کرن مسعود ودیگر شامل تھے ۔ اراکین مرکزی کمیٹی اور اسمبلی نے سانحہ بلدیہ کیس میں بیرسٹر فروغ نسیم کی طویل اور اعصاب شکن قانونی جدوجہد پر انہیں پوری قیادت اور کارکنان کی جانب سے زبردست خراج تحسین پیش کیا، گلدستہ دیا اور مٹھائی کھلائی۔ رضوان بابر اور کیف الوریٰ نے کہا کہ آج کا دن پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں حق کی فتح کا دن ہے ، گزشتہ پندرہ برس سے ایم کیو ایم کو جس سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دیوار سے لگانے اور عوامی سطح پر بدنام کرنے کی زہریلی مہم چلائی جا رہی تھی سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا ہے۔
آج ڈیڑھ دہائی بعد حق و سچ کا بول بالا ہوا ہے اور ہم قانون و انصاف کی اس بالا دستی پر اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے قائم سیاسی الزامات اور منفی بیانیے کا یکسر خاتمہ ایم کیو ایم کے لئے ایک بڑی اخلاقی اور سیاسی فتح ہے ۔ ملاقات میں موجود علی خورشیدی اور اراکین اسمبلی نے عزم ظاہر کیا کہ وہ عوامی عدالت کے بعد اب آئین و قانون کی عدالت سے بھی سرخرو ہو کر عوام کی خدمت کا سفر مزید تندہی سے جاری رکھیں گے ۔ ان کا کہنا تھا سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سندھ خصوصاً کراچی کی سیاست میں ایک بڑا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوگا ، جس سے ایم کیو ایم پاکستان کا اخلاقی گراف تیزی سے اوپر جائے گا اور عوامی سطح پر اس کا سیاسی تشخص مزید مستحکم ہوکر ابھرے گا۔