امریکا ایران امن معاہدہ طے پاگیا،تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری روکنے کا ا علان
امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی:شہبازشریف،سب کو مبارک ،ناکہ بندی ختم ، آبنائے ہرمز تجارتی سرگرمیوں کیلئے فوری کھول دی :ٹرمپ ایران نے امریکا کو امن معاہدہ پر قبول کرنے پر مجبورکردیا:ایرانی سرکاری میڈیا،اسرائیل نے معاہدہ رکوانے کیلئے بیروت پر حملہ،جس پر ایران نے بھی جوابی کارروائی کا اعلان کیا ،ان کارروائیوں کی وجہ سے تاخیرہوئی:امریکی صدر
لاہور ،بیروت ،تہران ،واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل اور اہم مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے ۔وزیراعظم شہبازشریف نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔ وزیراعظم نے معاہدے کیلئے قطر، سعودی عرب اور ترکیے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فریقین نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا، معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر کارروائیاں روکنا شامل ہے ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدہ طے پانے کی تصدیق کرتے ہوے کہا ہے کہ سب کو مبارکباد، ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیاہے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے ، ایران کے ساتھ ڈیل مکمل ہو گئی ہے ، انہوں نے اس حوالے سے سب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو ٹول فری طور پر کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکا کی بحری ناکہ بندی ہٹا دی گئی، دنیا بھر کے جہاز اپنی سرگرمیاں شروع کریں، تیل کی ترسیل بحال ہونے کا وقت آگیا۔
ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا امن معاہدہ قبول کرنے پر مجبورکردیا ہے ،ایرانی حکام کی طرف سے ردعمل بعد میں دیا جائے گا ۔قبل ازیںاسرائیل نے امریکا ایران امن معاہدہ رکوانے کیلئے بیروت پر حملہ کردیا جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو شدیددھچکا لگا ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیروت پر حملہ انتہائی نامناسب تھا، ایران کے ساتھ امن معاہدہ اب بھی طے شدہ راستے پر گامزن ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں اس پر دستخط متوقع ہیں تاہم بیروت پر اسرائیلی حملے کے باعث اس عمل میں عارضی تاخیر ہوئی،فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے پرحملے نہ کریں۔ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد امریکا کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، امریکا یا تو اپنے وعدے پورے کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا یا اس میں صلاحیت نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وعدے پورے کرنے کی نہ خواہش ہو اور نہ ہی صلاحیت، تو اس راستے پر مذاکرات جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کو نظرانداز یا ختم کرکے علاقائی سلامتی تشکیل نہیں دی جاسکتی۔تہران میں ممتاز شخصیات اور مذہبی رہنماؤں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک تسلیم کر چکے ہیں کہ پائیدار سلامتی، اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے ، افہام و تفہیم خطے کے تمام ممالک، بشمول ایران کے مشترکہ مفادات میں ہے اور خطے کا نیا سکیورٹی ڈھانچہ تمام ممالک کی شمولیت اور اجتماعی تعاون کا متقاضی ہے ۔ادھر ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران نے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ایران کے سخت گیر حلقے اس معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام سے متعلق امور پر اختلافات برقرار ہیں۔اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ میں فضائی حملے کئے جن میں کم از کم تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ۔ لبنانی سول ڈیفنس کے مطابق ملبے سے لاشیں اور زخمی افراد کو نکالا گیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور شمالی اسرائیل پر مبینہ ڈرون اور راکٹ حملوں کے جواب میں کی گئی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے تین ڈرون حملوں کی کوشش کی گئی تھی تاہم ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 29 دیہات کے رہائشیوں کیلئے انخلا کے انتباہات بھی جاری کئے ، جس کے بعد مختلف علاقوں میں فضائی حملے اور گولہ باری کی گئی۔ لبنانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی علاقے میں ایک فوجی اڈے سے اہلکاروں کو قریبی اسرائیلی پیش قدمی کے باعث منتقل کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی افواج اہم سٹراٹیجک مقامات پر پیش قدمی کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ حزب اللہ نے بھی جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے ۔دوسری جانب قطر کا ایک وفد اتوار کو تہران پہنچا ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو حتمی شکل دینے میں مدد فراہم کی جا سکے ۔ پاکستان اور دیگر ثالث ممالک کی کوششوں سے ایک ممکنہ معاہدے پر بات چیت جاری ہے جس پر ابتدائی طور پر اتوار کو دستخط کی توقع ظاہر کی گئی تھی تاہم ایران نے اس ٹائم لائن کو غیر یقینی قرار دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور مشاورت جاری ہے ۔ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات آبنائے ہرمز کے کنٹرول، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر، امریکی پابندیوں اور منجمد اثاثوں، اور لبنان میں جاری جنگ بندی کی شمولیت جیسے معاملات پر برقرار ہیں۔ امریکا اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو ختم یا بیرون ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ایران کا مو قف ہے کہ یہ عمل صرف اندرون ملک ہی ممکن ہے ۔فاکس نیوزکومختصر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اب بھی یقین ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ آئندہ دو سے تین گھنٹوں کے اندر طے پا سکتا ہے ۔
ٹرمپ نے بتایا کہ بیروت پر آج ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔ ٹرمپ نے اسرائیلی کارروائیوں پر ناراضی اور مایوسی کا اظہار کیا اور سخت لہجے میں وزیراعظم نیتن یاہو سے سوال کیا کہ ’’وہ یہ کیا کر رہے ہیں؟‘‘،انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف مزید حملے نہ کریں تاکہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل اور ممکنہ معاہدہ متاثر نہ ہو۔موجودہ مرحلے پر کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے مذاکراتی پیش رفت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ، اسی لئے تمام فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ اسرائیلی حملے نے معاہدے کے عمل کو ہلا کر رکھ دیا اور دستخط میں چند گھنٹوں کی تاخیر کر دی، معاہدے پر اس وقت دستخط ہونا تھے ، لیکن اب یہ چند گھنٹے بعد متوقع ہے ۔ انہوں نے فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور مزید حملوں سے گریز کی اپیل کی اور کہا کہ موجودہ صورتحال ایک بڑے امن موقع کی نمائندگی کرتی ہے ، اسرائیل کی جانب سے لبنان میں مزید کوئی حملہ نہیں ہونا چا ہئے لیکن اسی طرح اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی جانب سے بھی کوئی حملہ نہیں ہونا چا ہئے ، یہ ایک طویل اور خوبصورت امن کا آغاز ہوسکتا ہے ، اسے ضائع نہیں ہونے دیں۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ انہیں توقع نہیں کہ یہ حملہ معاہدے کی پیش رفت کو متاثر کرے گا اور معاملات شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔