پنجاب بجٹ: تنخواہوں میں 7، پنشن میں 3.5 فیصد اضافہ: زرعی انکم ٹیکس ، آبیانہ بڑھادیا گیا، گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں 20 سال بعد بڑا اضافہ
آئی ٹی، ٹرانسپورٹ اور پروفیشنل سروسز پر سیلز ٹیکس میں 3فیصد اضافہ،ریسٹورنٹس میں ڈیجیٹل ادائیگی پر 8 فیصد نقد پر 16 فیصد سیلز ٹیکس،زراعت کیلئے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف، کاٹن فیس ختم پراپرٹی ٹیکس کی صرف ڈیجیٹل ادائیگی،تاخیر پر سہ ماہی جرمانہ،خود تشخیصی سکیم میں 5فیصد رعایت،گاڑی رجسٹریشن پر ودہولڈنگ ٹیکس بڑھا دیا،الیکٹرک وہیکل کے ٹوکن ٹیکس پر مزید4فیصد رعایت نئے کاروبار پر پہلے 6ماہ ٹیکس استثنیٰ،پرانی گاڑیوں کی واپسی سکیم،5903ارب کا بجٹ، 910ارب سرپلس:وزیر خزانہ، اپوزیشن کا احتجاج، مشکل حالات میں بھی تعلیم ،صحت کا بجٹ کم نہیں کیا:مریم نواز
لاہور(رپورٹنگ ٹیم)وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے 5ہزار 903 ارب کا صوبائی بجٹ 2026-27 پنجاب اسمبلی میں پیش کردیا۔ ملازمین کی تنخواہوں میں7 فیصد جبکہ پنشن میں3.5 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے ۔پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی ایوان میں موجود تھیں۔اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور پلے کارڈز اٹھا کر نعرے بازی شروع کر دی،وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر کے وقت احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا، اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر سپیکر ڈائس کے قریب، وزیراعلیٰ کے سامنے جمع ہوگئے ۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا گیا اور مالی نظم و ضبط کے تحت وزرا کی تنخواہوں میں بھی کٹوتی کی گئی، دفاعِ پاکستان کو مضبوط بنانے میں بھی پنجاب نے بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے وفاق کو 546 ارب روپے فراہم کیے ۔وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا بجٹ میں صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 650 ارب جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی مد میں 505 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر خزانہ کے مطابق بجٹ 910 ارب روپے سرپلس ہوگا،پنجاب ریونیو اتھارٹی 528 ارب، محکمہ مال 86 ارب، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن 142 ارب جبکہ توانائی و شعبہ ٹرانسپورٹ 10 ارب روپے کی آمدنی کریں گے ۔آئندہ مالی سال کے اخراجات کے مطابق پی ایف سی (صوبائی مالیاتی کمیشن ) کو 824 ارب،تنخواہوں پر 638 ارب، اور پنشن پر 500 ارب روپے خرچ ہونگے ،جبکہ دیگر خدمات کی فراہمی کیلئے 783 ارب روپے رکھنے تجویز ہے ۔ تعلیم کیلئے مجموعی طور پر 750 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو کہ مجموعی بجٹ کا 15 فیصدہے ،اس میں ترقیاتی مد میں 63 ارب 30 کروڑ روپے جبکہ غیرترقیاتی امور کیلئے 686 ارب 80 کروڑ روپے شامل ہیں۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت سکول ایجوکیشن کیلئے 25 ارب 30 کروڑ رکھے گئے ہیں،ہائر ایجوکیشن کیلئے 30 ارب 50 کروڑ،سپیشل ایجوکیشن کیلئے 3 ارب 70 کروڑ،لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن کیلئے 3 ارب 80 کروڑ روپے مختص کئے جائیں گے ، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن(پیف) کیلئے 55 ارب، لیپ ٹاپ سکیم کیلئے 16 ارب،سپورٹس اینڈ یوتھ افیئر کیلئے 5 ارب 50 کروڑ روپے رکھنے تجویز ہے۔
244 کالجوں میں آئی ٹی لیبز کے قیام کیلئے 6 ارب 90 کروڑ کی لاگت سے منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح نواز شریف سنٹرز آف ایکسیلنس اور سٹیم پروگرامات کیلئے 40 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ آٹزم کا شکار بچوں کیلئے 4 ارب 50 کروڑ کی لاگت سے ہر ڈویژن میں آٹزم سکول بنائے جائیں گے ۔ شعبہ صحت کا مجموعی بجٹ 500 ارب روپے ہے جس میں سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کیلئے 43ارب10 کروڑ روپے ،ہیلتھ اینڈ پاپولیشن کیلئے 33 ارب20 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا صحت کیلئے مجموعی بجٹ کا10فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ کلینک آن وہیلز منصوبے کے لیے 3 ارب85 کروڑ روپے مختص کیے گئے جب کہ پنجاب میں ایئرایمبولینس سروس چلائی جارہی ہے ۔نوازشریف سنٹر آف ایکسیلنس کیلئے 3 ارب اور ہونہار سکالرشپ پروگرام کیلئے 22 ارب روپے کی تجویز ہے ۔شعبہ صحت میں نواز شریف انسٹیٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ کیلئے 20 ارب، کلثوم نواز کینسر ہسپتال ڈی جی خان کیلئے 15 ارب، کینسر کے مریضوں کیلئے 10 ارب،15 ڈی ایچ کیوز میں طبی لیب کیلئے 9 ارب روپے مختص کرنے کی تجاویز ہیں۔ایمرجنسی سروسز1122 کیلئے 80 کروڑ روپے ،سوشل ویلفیئر کیلئے 20 ارب روپے ،خواتین کی ترقی کیلئے 2 ارب 50کروڑ، مقامی حکومتوں کیلئے مجموعی طور پر410 ارب روپے ، سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 115 ارب50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ،اوقاف و مذہبی امور کو اے ڈی پی سے 30 ارب روپے ،تعمیرات و مواصلات کیلئے اے ڈی پی میں 74 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
مریم نواز راشن کارڈ کیلئے 40 ارب،پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی تنظیم نو کے لیے 2 ارب روپے ، دھی رانی پروگرام کیلئے 1 ارب70کروڑ روپے کی تجویز ہے ۔عافیت اولڈ ایج ہوم کے قیام کی مد میں 2 ارب 6 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ آئمہ مساجد کی معاونت کے لیے 18 ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ، جبکہ اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے منیارٹی کارڈ پروگرام کی مد میں 4 ارب روپے رکھنے کی سفارش بھی بجٹ کا حصہ ہے ۔خصوصی افراد کی معاونت اور فلاحی پروگراموں کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ ٹرانسپورٹ میں روڈ انفراسٹرکچر بحالی پروگرام کیلئے 100 ارب، ماس ٹرانزٹ سسٹم فیصل آباد و گوجرانوالہ کیلئے 143 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ،168 ارب روپے کی لاگت سے 2000 الیکٹرک بسوں کی فراہم کا پروگرام بھی اس بجٹ میں رکھا گیا ہے ۔جبکہ کسان کارڈ کیلئے 10 ارب،تھل زرعی انقلاب کیلئے 8 ارب اور6 اضلاع میں ایکوا بزنس ہب کیلئے 47 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔وزیرخزانہ نے کہا گرین ٹریکٹر پروگرام کے اگلے مرحلے میں 7 ارب روپے کی لاگت سے 10 ہزار لو پاور گرین ٹریکٹرز سبسڈی پر فراہم کیے جائیں گے ، جبکہ 9 ارب 90 کروڑ روپے سے مزید 6 ہزار 500 ہائی پاور ٹریکٹرز بھی کسانوں کو رعایتی نرخوں پر دئیے جائیں گے ۔فضائی و آبی آلودگی کے تدارک اور ماحولیاتی نگرانی کیلئے 32 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
جبکہ ستھرا پنجاب پروگرام کے تسلسل کے لیے 170 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔سالانہ ترقیاتی بجٹ کے دیگر پراگرامز میں جنگلات اور جنگلی حیات کیلئے 8ارب 10 کروڑ روپے ،لیبر و ہیومن ریسورس کے لئے 63 کروڑ روپے ،ٹرانسپورٹ کے لئے 78 ارب 50 کروڑ،کوآپریٹو کے لئے 25 کروڑ،انفارمیشن و کلچر کے لئے چھ ارب 70 کروڑ،پولیس کے لئے 12 ارب 88 کروڑ روپے ،ہوم ڈیپارٹمنٹ کے لئے دو ارب،عدلیہ کے لئے تین ارب روپے ،قانون و پارلیمانی امور کیلئے دو ارب 20 کروڑ،پبلک پراسیکیوشن کے لئے 83 کروڑ،پروفیشنل ڈویلپمنٹ کے لئے دس کروڑ،بورڈ آف ریونیو کے لئے 18 ارب 95 کروڑ پنجاب اسمبلی کے لئے ایک ارب چھ کروڑ روپے ،ایس اینڈ جی اے ڈی کے لئے تین ارب 12 کروڑ،انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لئے 83 کروڑ،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے لئے 20 کروڑ،پلاننگ و ڈویلپمنٹ کے لئے 25 ارب 35 کروڑ،محکمہ خزانہ کے لئے دو ارب 43 کروڑ،آبپاشی کے منصوبوں کے لئے 30 ارب،توانائی کے منصوبوں کیلئے چار ارب 30 کروڑ،ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ کے لئے 71 ارب 60 کروڑ،زراعت کے لئے 60 ارب،فوڈ سیفٹی و کنزیومر پروٹیکشن کیلئے 9 ارب،لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ کیلئے 6ارب 75 کروڑ،کامرس اینڈ انوسٹمنٹ کیلئے ایک ارب 65 کروڑ،سکل ڈویلپمنٹ و انٹرپنیورشپ کے لئے 12 ارب 60 کروڑ روپے ،مائنز و منرلز کے لئے 39 کروڑ،آرکیالوجی و میوزیم،سیاحت کے لئے 60 ارب،موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات کے لئے 15ارب 40 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا لائیو سٹاک کارڈ پروگرام کے تحت رواں مالی سال میں 3 ارب روپے کی لاگت سے 29 ہزار 265 مویشی پال افراد کو مالی معاونت فراہم کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال 2026-27 میں اس پروگرام کے لیے 4 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ چیف منسٹر سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے ، انہوں نے بتایا کہ 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرام شروع کیا گیا، جس سے اب تک 5 ہزار نوجوان مستفید ہو چکے ہیں۔ آئندہ مالی سال کیلئے چیف منسٹر سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام میں 26 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ مزید نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے ۔وزیر خزانہ کے مطابق سی ایم سکلڈ پنجاب پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اس پروگرام پر ایک ارب 44 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ اب تک 2 ہزار 200 افراد اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نوجوانوں کی فنی صلاحیتوں میں اضافے ، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں عالمی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کی فراہمی کیلئے 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،"سکلز فار گلوبل نیڈز" پروگرام کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو تربیت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پرواز کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت اور بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے ، تعمیرات، صحت اور آٹوموٹیو سمیت 12 بین الاقوامی معیار کے تربیتی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے ،سکلز فار گلوبل نیڈز پروگرام سے سالانہ ترسیلات زر میں 466 ملین ڈالر اضافے کی توقع ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا فرنٹیئر ٹیک سکلز اینڈ انوویٹ پنجاب پروگرام کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،جدید ایل ایم ایس پلیٹ فارم اور انکیوبیٹرز کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت فراہم کی جائے گی، 60 لاکھ افراد کو جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ، 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔انوویٹ پنجاب پروگرام کے تحت 1200 سٹارٹ اپس کی معاونت کی جائے گی، ٹیکنالوجی پروگراموں میں خواتین کی شرکت کم از کم 40 فیصد یقینی بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک سکلز پروگرام کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،بوٹ کیمپس، آئی ٹی انٹرن شپ اور میکر سپیسز کے ذریعے 70 ہزار 500 سے زائد نوجوان مستفید ہوں گے ، بین الاقوامی آئی ٹی سرٹیفیکیشنز کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کی جائیں گی، پروگرام کے تحت نوجوانوں کی متوقع ماہانہ آمدن ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
لاہور میں سنٹر آف ایکسیلنس فار ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجیز قائم کیا جائے گا، آٹوموٹیو ٹیکنالوجی سنٹر کے قیام پر 99 کروڑ روپے لاگت آئے گی، سنٹر میں ہر سال 400 افراد کو بین الاقوامی معیار کی فنی تربیت فراہم کی جائے گی، حکومت پنجاب نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر معاشی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے ،وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں سمارٹ سیف سٹیز منصوبے کے تحت جدید ڈیجیٹل سکیورٹی نظام کو مزید وسعت دی جا رہی ہے ، اس کے تحت تحصیل سطح تک نگرانی کے جدید نظام متعارف کرائے جائیں گے ، جبکہ ریجنل ڈیٹا سنٹرز اور پی پی آئی سی منصوبوں کے ذریعے جدید سکیورٹی انفراسٹرکچر بھی قائم کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ 47 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے سکیورٹی اور نگرانی کے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے ، جن کے تحت ڈیٹا اینالیٹکس، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور جدید کیمروں پر مشتمل مربوط نظام کو فروغ دیا جائے گا، ان اقدامات کا مقصد جرائم کی روک تھام، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ہے ۔وزیر خزانہ کے مطابق سمارٹ سیف سٹیز منصوبوں سے پنجاب کے 19 اضلاع اور متعدد تحصیلیں مستفید ہوں گی، جبکہ جدید نگرانی کے نظام سے صوبے کی بڑی آبادی کو فائدہ پہنچے گا، کچے کے علاقوں میں پولیس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے نئے پولیس سٹیشنز، پولیس پوسٹس اور پولیس پکٹس کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے۔
مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بتایا کہ صوبے کے 28 اضلاع میں جدید کرائم سین یونٹس قائم کیے جائیں گے ، جن پر 14 ارب 21 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے ، ان یونٹس کے ذریعے جرائم کے شواہد کا سائنسی بنیادوں پر حصول، تجزیہ، تحفظ، ذخیرہ اور منتقلی بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنائی جائے گی، جس سے تفتیشی نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کے منصوبوں کیلئے 26 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔صوبے بھر کے تحصیل ہیڈکوارٹرز میں جدید پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے 2 ہزار الیکٹرک بسوں کی فراہمی کا منصوبہ بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیا گیا ہے ۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ ریلوے ٹریکس کی بحالی کے لیے 10 ارب روپے جبکہ نہری نظام کی بہتری، آبپاشی کے انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور زرعی شعبے کی معاونت کے لیے 61 ارب 14 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سموگ کے خاتمے کے لیے رواں مالی سال کے دوران 123 ارب روپے خرچ کیے گئے ، جبکہ فضائی آلودگی میں کمی لانے کے لیے پرانی اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کی واپسی (سکریپ)سکیم بھی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔وزیرخزانہ نے کہا 2ارب کی لاگت سے مصنوعی ذہانت (اے آئی )کے انفراسٹرکچر کی ترقی کی تجویز بھی اس بجٹ میں شامل ہے ۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ بجٹ پر عام بحث کے لئے پانچ دن رکھے گئے ہیں، وزیر خزانہ نے سپلیمنٹری بجٹ 2025-26 بھی پیش کیا۔اجلاس کا ایجنڈا مکمل ہونے پرسپیکر پنجاب اسمبلی نے اجلاس 19 جون بروز جمعہ دو بجے تک ملتوی کر دیا۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ مریم نوازکی زیر صدارت صوبائی کابینہ نے پنجاب کے بجٹ برائے 27-2026 کی منظوری دی۔مریم نواز نے کہا کہ تیسرا بجٹ پیش کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتی ہوں، وفاقی حکومت کو دفاع اور دیگر مدات میں پنجاب نے سب سے زیادہ حصہ دیا، این ایف سی شیئر کم ہونے کے باوجود اپنے عوام کو اپنے وسائل سے ریلیف دینے کے لئے پر عزم ہوں، عوام کو ریلیف دینے کا عہد پورا کرنے کے لئے علالت کی حالت میں بھی ویڈیو لنک میٹنگ کرتی رہی،پنجاب کے عوام کی ترقی کے سفر پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔مریم نواز نے عوامی فلاح و بہبود کے پراجیکٹس کیلئے اپنے صوبائی وسائل بڑھانے کی ہدایت کی۔ بجٹ میں پہلی مرتبہ پنجاب ریونیواتھارٹی کے اہداف میں 55 فیصداور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹیکس کے اہداف میں 77 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ مجموعی طور پر پنجاب کے اپنے ریونیو اہداف 42.7فیصد بڑھا دیئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پچھلے 2سال میں پنجاب نے ہر شعبہ میں قابل ذکر اورنا قابل تردیدترقی کی۔ فلڈ میں پنجاب نے تاریخی ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیا۔ ٹیم ورک کرکے مالیاتی خسارے کو پورا کریں گے ، کسی پراجیکٹ پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وفاق نے نہ صرف پنجاب کا شیئر کم کیا بلکہ ٹیکس کی ایک مد کو آئی ایم ایف ڈاکو منٹ میں ڈال دیا، اس کے باوجود مایوس نہیں۔ مریم نواز نے مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا یہ بجٹ سب سے مشکل تھا، ہمیں وفاقی حکومت کو 546 ارب کی گرانٹ دینی پڑی، بجٹ میں سوشل سیکٹر اور انفراسٹرکچر پر فوکس کیا گیا ہے ،پنجاب کے عوام کو 80 ارب کی دوائیں مفت فراہم کی جا رہی ہیں،گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں بھی میٹرو بن رہی ہے ۔نواز شریف کینسر ہاسپٹل تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے ۔ مشکل مالی حالات کے باوجود ایجوکیشن اور ہیلتھ سیکٹر کے بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔
لاہور (زاہدعابد +عبدالقادر مدنی)پنجاب اسمبلی میں پیش فنانس بل 2026-27کے مطابق ٹیکسوں میں بڑا اضافہ تجویز کیا گیا ہے ، زرعی انکم ٹیکس، آبیانہ اور ٹوکن ٹیکس میں اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔پنجاب میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کی شرح میں 20 سال بعد بڑا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ہزار سی سی سے زائد کمرشل اور بڑی گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس بھی بڑھائے گئے ہیں۔ کمرشل لوڈر گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس تین گنا تک بڑھایا گیا ہے ، 4060 کلو گرام سے 8110 کلو گرام لوڈ والی گاڑی پر ٹیکس 2200سے بڑھا کر 6600 روپے کرنے کی تجویز ہے ،8120 کلو گرام لوڈ سے 12000 کلو گرام لوڈ والی گاڑی پر ٹیکس چار ہزار سے بڑھا کر 12000روپے کرنے اور 12000 سے 16000کلو گرام لوڈ والی گاڑی کا ٹیکس6000سے بڑھا کر 18000روپے جبکہ16000کلو گرام سے زیادہ لوڈ والی گاڑی پر ٹیکس 8000سے 24000روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ ایک ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں پر بھی ٹوکن ٹیکس کی شرح بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،ایک ہزار سے دو ہزار سی سی تک کی گاڑی پر ٹوکن ٹیکس میں انوائس پر 0.1 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ،دو ہزار سی سی سے بڑی گاڑی پر انوائس کا 0.3 فیصد سے بڑھا کر 0.4 فیصد ٹیکس کرنے کی تجویز ہے۔
موٹر وہیکل ڈیلرز کو ٹیکس، فیس اور ڈیوٹیز کی وصولی کے لیے ودہولڈنگ ایجنٹ بنانے کی تجویز دی گئی ہے ، رجسٹریشن اور سرکاری نمبر پلیٹ کے بغیر گاڑی کی ڈیلیوری پر پابندی لگانے کی تجویز ہے ۔ بغیر رجسٹریشن گاہک کو گاڑی ڈیلیور کرنے پر شو روم مالکان کو بھاری جرمانہ ہو گا۔الیکٹرک وہیکل پر ٹوکن ٹیکس میں مزیدچار فیصد کی رعایت دینے کی تجویز دی گئی ہے ۔زرعی ٹیکس کے نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے فکسڈ ٹیکس سٹرکچر متعارف کروانے کی تجویز ہے جبکہ کاٹن فیس کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے ۔آبیانہ فصل کے بجائے فلیٹ ریٹ پر وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، خریف 1650 اور ربیع 850 روپے فی ایکڑ لینے کی تجویز ہے ، باغات کے لیے اضافی آبپاشی چارجز 2000 روپے فی ایکڑ سالانہ مقرر کرنے کی تجویز دے دی گئی، لفٹ اریگیشن کے ذریعے آبپاشی پر 2250 روپے فی ایکڑ سالانہ آبیانہ تجویز دی گئی ہے ،زرعی انکم ٹیکس پر سلیب سسٹم ختم کیا جا رہا ہے ۔ 12.5 ایکڑ سے زیادہ زرعی اراضی رکھنے والوں پر زرعی انکم ٹیکس 1000 روپے فی ایکڑ کرنے کی تجویز ہے ،قبل ازیں 12.5 ایکڑ سے 25 ایکڑ تک 300 روپے فی ایکڑ زرعی ٹیکس تھا،25 سے 50 ایکڑ تک زرعی انکم ٹیکس 400 روپے فی ایکڑ تھا،50 ایکڑ سے زیادہ زمین مالک پر 500 روپے فی ایکڑ زرعی ٹیکس تھا۔ سیراب باغات پر زرعی ٹیکس 600 سے بڑھا کر 1000 روپے فی ایکڑ کرنے کی تجویز ہے ،غیر سیراب باغات پر زرعی ٹیکس 300 سے بڑھا کر 500 روپے فی ایکڑ تجویزہے ۔فنانس بل کے مطابق نئے کاروبار شروع کرنے والوں کو ابتدائی 6 ماہ تک ٹیکس قوانین سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نان رجسٹرڈ تاجروں کو سرکاری ٹھیکے ، لائسنس اور این او سی جاری نہیں کیے جائیں گے ، ایونٹ مینجمنٹ سروسز پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے بغیر 8 فیصد ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے ۔پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی صرف الیکٹرانک طریقے سے کرنے کی تجویز ہے ، پراپرٹی ٹیکس کی تاخیر پر جرمانہ ماہانہ کے بجائے سہ ماہی بنیادوں پر عائد ہوگا، پراپرٹی ٹیکس خود تشخیصی سکیم میں آنیوالوں کو 5 فیصد رعایت فراہم کرنے کی تجویز ہے ۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کو رسک بیسڈ ٹیکس مانیٹرنگ کا اختیار بھی دیا جا رہا ہے ، سیلز ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں نمایاں اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے ، ریسٹورنٹس میں ڈیجیٹل ادائیگی پر سیلز ٹیکس 8 فیصد جبکہ نقد ادائیگی پر 16 فیصد تجویزدے دی گئی، آئی ٹی، ٹرانسپورٹ اور پروفیشنل سروسز پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔علاوہ ازیں سیلز ٹیکس ایکٹ سیکنڈ شیڈول میں مزید دو سروسز شامل کر دی گئی ہیں، جس میں فارن ایکسچینج سروسز فراہم کرنے والا کوئی بھی شخص ایکسچینج کمپنی،فاریکس ڈیلراور منی چینچر پر 3فیصد کی شرح سے ٹیکس ود آئوٹ ان پٹ ٹیکس ایڈ جسٹمنٹ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔مشکوک ان پٹ ٹیکس کلیم کی جانچ پڑتال کے اختیارات پی آر اے کے پاس ہوں گے ۔پنجاب ریونیو اتھارٹی کے قوانین کی خلاف ورزی، انوائس جاری نہ کرنے اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کمپنیوں کے لیے جرمانے 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔مسلسل دو ماہ تک ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والے تاجروں کو ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ سے خارج کرنے کی تجویز بھی بل کا حصہ ہے۔