وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان پنجاب بجٹ 2026-27 پیش کررہے ہیں
لاہور:(دنیا نیوز) وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کر رہے ہیں۔
پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی ایوان میں موجود تھیں۔
اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک، نعتِ رسولِ مقبولؐ اور قومی ترانے سے کیا گیا، اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں داخل ہوتے ہی نعرے بازی شروع کر دی۔
اپوزیشن ارکان نے "شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو" کے نعرے لگائے جبکہ ان کے ہاتھوں میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی اپوزیشن کا احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا، اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے قریب، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سامنے جمع ہوگئے اور ’جعلی بجٹ نامنظور، نامنظور‘ کے نعرے لگاتے رہے، جس کے باعث ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی کا ماحول دیکھنے میں آیا۔
اپوزیشن ارکان نے "شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو" کے نعرے لگائے جبکہ ان کے ہاتھوں میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایران،امریکا امن معاہدہ پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف امن معاہدے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکوبھی امن معاہدے پرمبارکباد پیش کرتا ہوں، مسلم لیگ(ن) نے ملک کودیوالیہ ہونےسےبچایا، معرکہ حق میں کامیابی کی دنیا معترف ہے، ایران،امریکا جنگ نےعالمی معیشت کی بنیاد ہلادی، مریم نواز شریف نے کفایت شعاری کی عمدہ مثال قائم کی۔
مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا گیا اور مالی نظم و ضبط کے تحت وزراء کی تنخواہوں میں بھی کٹوتی کی گئی، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں ہونے والے اقدامات کو ہر فورم پر سراہا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کا ہر ضلع اور ہر تحصیل ترقی کے سفر میں شریک ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبے میں انقلابی اقدامات کیے گئے، دفاعِ پاکستان کو مضبوط بنانے میں بھی پنجاب نے بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے وفاق کو 546 ارب روپے فراہم کیے۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ 2025 کے دوران آنے والے شدید بارشوں اور سیلاب سے پنجاب کے 27 اضلاع متاثر ہوئے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں بغیر کسی تاخیر کے شروع کرائیں، جبکہ حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، صاف پانی، عارضی رہائش اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی۔
چیف منسٹر سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، انہوں نے بتایا کہ 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرام شروع کیا گیا، جس سے اب تک 5 ہزار نوجوان مستفید ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام میں 26 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ مزید نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔
وزیر خزانہ کے مطابق سی ایم اسکلڈ پنجاب پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اس پروگرام پر ایک ارب 44 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ اب تک 2 ہزار 200 افراد اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نوجوانوں کی فنی صلاحیتوں میں اضافے، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
سکلز فار گلوبل نیڈز پروگرام
وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں عالمی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کی فراہمی کے لیے 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،"اسکلز فار گلوبل نیڈز" پروگرام کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو تربیت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پرواز کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت اور بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، تعمیرات، صحت اور آٹوموٹیو سمیت 12 بین الاقوامی معیار کے تربیتی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے،اسکلز فار گلوبل نیڈز پروگرام سے سالانہ ترسیلات زر میں 466 ملین ڈالر اضافے کی توقع ہے۔
ٹیک سکلز پروگرام
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے فرنٹیئر ٹیک اسکلز اینڈ انوویٹ پنجاب پروگرام کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،جدید ایل ایم ایس پلیٹ فارم اور انکیوبیٹرز کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت فراہم کی جائے گی، 60 لاکھ افراد کو جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
انوویٹ پنجاب پروگرام کے تحت 1200 اسٹارٹ اپس کی معاونت کی جائے گی، ٹیکنالوجی پروگراموں میں خواتین کی شرکت کم از کم 40 فیصد یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک اسکلز پروگرام کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،بوٹ کیمپس، آئی ٹی انٹرن شپ اور میکر اسپیسز کے ذریعے 70 ہزار 500 سے زائد نوجوان مستفید ہوں گے، بین الاقوامی آئی ٹی سرٹیفیکیشنز کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کی جائیں گی، پروگرام کے تحت نوجوانوں کی متوقع ماہانہ آمدن ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
لاہور میں سینٹر آف ایکسیلنس فار ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجیز قائم کیا جائے گا، آٹوموٹیو ٹیکنالوجی سینٹر کے قیام پر 99 کروڑ روپے لاگت آئے گی، سینٹر میں ہر سال 400 افراد کو بین الاقوامی معیار کی فنی تربیت فراہم کی جائے گی، حکومت پنجاب نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر معاشی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے،
سمارٹ سیف سٹیز پروگرام
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں کہا کہ پنجاب میں اسمارٹ سیف سٹیز منصوبے کے تحت جدید ڈیجیٹل سکیورٹی نظام کو مزید وسعت دی جا رہی ہے، وزیراعلیٰ اسمارٹ سیف سٹیز پروگرام کے تحت تحصیل سطح تک نگرانی کے جدید نظام متعارف کرائے جائیں گے، جبکہ ریجنل ڈیٹا سینٹرز اور پی پی آئی سی منصوبوں کے ذریعے جدید سکیورٹی انفراسٹرکچر بھی قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 47 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے سکیورٹی اور نگرانی کے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے، جن کے تحت ڈیٹا اینالیٹکس، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور جدید کیمروں پر مشتمل مربوط نظام کو فروغ دیا جائے گا، ان اقدامات کا مقصد جرائم کی روک تھام، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق سمارٹ سیف سٹیز منصوبوں سے پنجاب کے 19 اضلاع اور متعدد تحصیلیں مستفید ہوں گی، جبکہ جدید نگرانی کے نظام سے صوبے کی بڑی آبادی کو فائدہ پہنچے گا، کچے کے علاقوں میں پولیس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے نئے پولیس اسٹیشنز، پولیس پوسٹس اور پولیس پکٹس کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے۔
مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بتایا کہ صوبے کے 28 اضلاع میں جدید کرائم سین یونٹس قائم کیے جائیں گے، جن پر 14 ارب 21 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، ان یونٹس کے ذریعے جرائم کے شواہد کا سائنسی بنیادوں پر حصول، تجزیہ، تحفظ، ذخیرہ اور منتقلی بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنائی جائے گی، جس سے تفتیشی نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔