معیشت آئی سی یو سے نکل آئی، تیل نرخوں میں کمی کا فائدہ عوام کو دینگے : خواجہ آصف
فارن فنڈڈ تنظیم مہاجر نشستوں پر بلیک میلنگ کر رہی ،پختونخوا ، بلوچستان میں دہشتگردی کا تعلق افغانستان سے :وزیر دفاع مانع حمل ادویات پر ٹیکس کا خاتمہ خوش آئند :مصطفیٰ کمال، بھارت اگر ہمارا پانی بند کریگا تو ہم اسکی سانس بند کر دینگے :حنیف عباسی بجٹ غریب دوست نہیں:صبا تالپور، قادر پٹیل، صحت و تعلیم کیطرح حکومت بھی ٹھیکے پر دے دیں:مستی خیل،بجٹ پربحث
اسلام آباد (نامہ نگار، سٹاف رپورٹر، اپنے رپورٹر سے ) قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث چوتھے روز بھی جاری رہی، اس دوران ایوان کا ماحول متعدد بار تلخ بھی ہوا۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور کے آغاز پر ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، تاہم حکومتی اقدامات کے باعث معیشت آئی سی یو سے نکل چکی ہے ۔ معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور امید ہے کہ آئندہ ایک دو سال میں جی ڈی پی گروتھ کی شرح 6 سے 7 فیصد تک لے جائی جا سکے گی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا۔ ٹیکس کی ایسی شرح ہونی چاہیے کہ لوگ فخر سے خود ٹیکس ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا براہِ راست تعلق افغانستان سے ہے ۔ پاکستان بات چیت اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے ، مگر اس کی ضمانت دینا ہوگی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ افغانستان سے دہشت گردی کے مسئلے پر پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے ۔خواجہ آصف نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ایک فارن فنڈڈ تنظیم مہاجر نشستوں پر بلیک میلنگ کر رہی ہے ، جبکہ مہاجر نشستوں کا فیصلہ آزاد کشمیر کے عوام اور مہاجرین کو کرنے دیا جائے ۔ آزاد کشمیر میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے ، اس میں برطانیہ میں مقیم بعض افراد اور بھارت شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر پابندیوں میں نرمی پاکستان اور بلوچستان کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے سے پاکستان کے وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ پاکستان کا نام بلند ہونا تمام پاکستانیوں کے لیے باعث فخر ہے ۔ مودی بھی صدر ٹرمپ کو مبارکباد دے رہا تھا، مگر اس میں ہمت نہیں کہ پاکستان کا شکریہ ادا کرے ۔پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے عالمی حالات میں ایسا کردار ادا کیا جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ اگر غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں تو تمام معاشی اعدادوشمار بے معنی ہیں۔انہوں نے تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ریلیف پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہ میں معمولی اضافے کے ساتھ ایک الماری بھی دی جائے تاکہ وہ اس میں اضافی رقم رکھ سکیں۔پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی صبا تالپور نے کہا کہ یہ غریبوں کا بجٹ نہیں اور اس میں زراعت کے شعبے کو نظرانداز کیا گیا ہے ۔ غذائی سلامتی کے لیے کسانوں کو ریلیف دینا ضروری ہے ، جبکہ سندھ پانی کی قلت کا شکار ہے۔
ثنا اللہ خان مستی خیل نے کہا کہ مجموعی بجٹ کا 43 فیصد حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے جبکہ عوام غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ اگر وزرا بھیس بدل کر بازاروں کا دورہ کریں تو انہیں عوامی مشکلات کا اندازہ ہو جائے گا۔ اگر صحت اور تعلیم کے شعبے ٹھیکے پر دیے جا رہے ہیں تو پھر حکومت بھی ٹھیکے پر دے دینی چاہیے ۔وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ این ایف سی میں آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا تناسب 50 فیصد ہونا چاہیے ۔ مانع حمل ادویات پر ٹیکس کا خاتمہ خوش آئند ہے ، جس سے 15 لاکھ بچوں کی پیدائش میں کمی آئے گی۔وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ اگر بھارت ہمارا پانی بند کرے گا تو ہم اس کی سانس بند کر دیں گے ۔ ملک کی ترقی، خوشحالی اور دفاع کے لیے قومی اتحاد اور اتفاق ناگزیر ہے ۔پی ٹی آئی کے صاحبزادہ صبغت اللہ، جنید اکبر خان اور خرم شہزاد ورک، جے یو آئی کے مصباح الدین، ایم کیو ایم کی آسیہ اسحاق، پیپلز پارٹی کے سحر کامران، نوید جیوا، نعمان اسلام شیخ، شبیر علی بجارانی، ن لیگ کے ملک ابرار احمد اور وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے بھی بجٹ پر اظہار خیال کیا۔