یہ نہیں ہو سکتا کہ کچھ ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں : شہباز شریف، پاکستان ، ایران کا مشترکہ خوشحال مستقبل : مسعود پزشکیان

 یہ نہیں ہو سکتا کہ کچھ ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں : شہباز شریف، پاکستان ، ایران کا مشترکہ خوشحال مستقبل : مسعود پزشکیان

دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ہاتھ تھامے ،مستقل و دیرپا امن تک اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے :وزیراعظم ،امید ہے تکنیکی سطح کے مذاکرات مستقل امن کے قیام پر منتج ہونگے :صدر زرداری امن و استحکام کیلئے پاکستان کا عزم غیرمتزلزل:چیف آف ڈیفنس فورسز،دونوں ممالک کی مضبوط قیادت تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی،میزائل نہ ہوتے تو ایران کا حال غزہ جیسا ہوتا:ایرانی صدر

اسلام آباد،راولپنڈی(خصوصی نیوز رپورٹر، نامہ نگار،نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری،وزیر اعظم شہبازشریف اور فیڈمارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقاتیں کیں ، اس موقع پر پاکستان اور ایران نے علاقائی امن و استحکام کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ایرانی صدر نے کہا امن، ترقی اور خوشحالی کیلئے پاکستان کے اہم کردار کے معترف ہیں، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے ،چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے خوشحال مشترکہ مستقبل کیلئے آگے بڑھنا ہے ۔شہبازشریف نے کہا یہ نہیں ہوسکتا کہ کچھ ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں،مستقل و دیرپا امن قائم ہونے تک اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی نورخان ایئربیس آمد پرصدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف  نے پرتپاک خیرمقدم کیا، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجودتھے ۔ ایران کے پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اعلیٰ سطح وفد بھی صدر مسعود پزشکیان کے ہمرا ہ ہے۔

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا ایئر پورٹ پر شاندار استقبال کیا گیا، انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ پاک فضائیہ کے خصوصی سکواڈ نے بھی ایرانی صدر کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں سلامی دی۔جے ایف-17 تھنڈر اور ایف-16 طیاروں کی 6 جہازوں پر مشتمل فارمیشن نے ایرانی صدر کا فضائی استقبال کیا۔ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے صدر مسعود پزشکیان کو پھول پیش کئے ،جبکہ پاکستان اور ایران کے پرچم تھامے بچوں نے ایرانی صدر کا خیرمقدم کیا۔ صدر مسعود پزشکیان نے ہاتھ ہلا کر بچوں کے خیرمقدمی نعروں کا جواب دیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی قیادت کے ساتھ گرمجوشی کے ساتھ معانقہ و مصافحہ کیا۔ خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی استقبال کیلئے موجود تھے ۔ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا بطور صدر پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہے ۔ ایرانی صدر جس طیارے پر پاکستان آئے ہیں اس کا نام میناب ایران میں سکول پر حملے میں شہید بچوں کے نام پر رکھا گیا ہے ۔صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی ملاقات میں پاکستان ایران تعلقات مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات ،اقتصادی تعاون اور بالخصوص علاقائی امن سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔صدر زرداری نے پاکستان کی جانب سے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور خطے میں پائیدار امن کیلئے مذاکرات اور سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔ایرانی صدر نے امن اور مکالمے کیلئے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے ۔صدر زرداری نے اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا امید ہے تکنیکی سطح کے مذاکرات مستقل امن کے قیام پر منتج ہوں گے ، صدر زرداری نے واضح کیا پاکستان نے ہمیشہ یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی ہے ، علاقائی و عالمی چیلنجز کے دیرپا حل کیلئے مذاکرات کی حمایت کی ہے ۔انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔ایرانی صدر نے حالیہ مشکل حالات میں پاکستان کی حمایت اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔دونوں رہنماؤں نے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ صدر زرداری نے مسلم اُمہ کے اتحاد اور خلیجی ممالک سے مضبوط تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے ، سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی اور علاقائی امور میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔

اس سے قبل ایران کے صدر مسعود پزشکیان وزیر اعظم ہاؤس پہنچے جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،ایرانی صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ شہبازشریف نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار کلمات کا تبادلہ ہوا۔ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو سلامی دی۔ایرانی صدر نے وزیراعظم ہاؤس کے لان میں پودا بھی لگایا۔ایرانی صدر اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے ۔دوطرفہ اور وفود کی سطح پر ملاقات کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم شہبازشریف نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی ۔وزیر اعظم نے فارسی شعر کے ذریعے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ہاتھ تھامے ، صدر مسعود پزشکیان اور ان کے وفد کے دورۂ پاکستان پر بہت خوشی ہوئی ہے ۔شہباز شریف نے کہا اپنے بھا ئی مسعود پزشکیان کو خوش آمدید کہتا ہوں ،ہم آج یہاں ایک روشن مستقبل کیلئے بیٹھے ہیں ، اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کے بعد بہت خوشی ہے ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت معاہدے کی شکل اختیار کرے گی اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

جنگ بندی کیلئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے انتھک محنت کی ، پاکستان خطے میں امن و خوشحالی کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا ، ہم پائیدار معاہدے تک اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔اسلام آباد معاہدہ بڑی کامیابی ہے ، ایران میں ہزاروں افراد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور مذاکراتی عمل کی تکمیل کو کامیابی ملی ،ایرانی بھائیوں کے عزم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ایران کی کامیابی کو اپنی کامیابی اور نقصان کو اپنا نقصان سمجھتے ہیں۔ایسا نہیں ہو سکتا دوسروں کے پاس میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں، ایران کا میزائل پروگرام کبھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنا،دوسرے ملکوں کی طرح ایران اپنے دفاع کیلئے بیلسٹک میزائل کیوں نہیں رکھ سکتا،بیلسٹک میزائل کے حوالے سے دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے ۔ایران نے پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کیا جس پر بہت مشکور ہوں،بحران کے دوران ایران کے عوام نے مثالی جرات اور اتحاد کا مظاہرہ کیا،ایران جلد ایک بڑی معیشت بن کر ابھرے گا،مستقل اور دیرپا امن قائم ہونے تک اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ایرانی صدر نے کہا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ثالثی میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان اور ایران کے تعلقات منفرد نوعیت کے حامل ہیں۔پاکستان اور ایران یک جان دو قالب ہیں اور دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور منزل کے شراکت دار ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو مل کر آگے بڑھنا ہے تاکہ خوشحال اور مشترکہ مستقبل تشکیل دیا جا سکے ۔انہوں نے کہا پاکستان صرف ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ہمارا بھائی اور عزیز دوست ہے ،ماضی قریب میں ہونے والے واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان رشتے کو نئی جہت دی۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان امن، ترقی اور خوشحالی کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے جس کے وہ معترف ہیں۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ان کی وزیر اعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے تعمیری ملاقاتیں ہوئیں،جن میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔خطے میں امن و سلامتی اور پائیدار ترقی علاقائی روابط کے فروغ اور تعمیری بات چیت سے ہی ممکن ہے ۔انہوں نے کہا دونوں ممالک کی مضبوط سیاسی قیادت پاکستان اور ایران کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ مسعود پزشکیان نے کہا اگر ہمارے پاس اپنے دفاع کیلئے میزائل نہ ہوتے تو اسرائیل اور امریکا ایران پر اسی طرح چڑھ دوڑتے جیسے غزہ پر حملہ کیا گیا، اور وہ نہ بوڑھوں پر رحم کرتے نہ بچوں پر۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایرانی صدر اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان بھی ملاقات ہوئی، جس میں علاقائی صورتحال،امن اقدامات اورباہمی دلچسپی کے امورپرتبادلہ خیال کیا گیا۔

یرانی صدر نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار ، تنازعات کے پرامن حل اور فریقین کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دورانِ گفتگو خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اطراف سے پاکستان ایران تعلقات مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی مشاورت کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ پاکستان میں ملاقاتوں سے قبل صدر پزشکیان نے خبردار کیا کہ امریکا سے مذاکرات کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ طے شدہ ذمہ داریوں پر مکمل عملدرآمد اور ان کی درست پابندی کی جائے ۔انہوں نے ایکس پر لکھا اس راستے پر پیش رفت کا اندازہ قبول شدہ ذمہ داریوں پر عملی عملدرآمد سے لگایا جائے گا۔ متفقہ متن سے ہٹ کر دئیے جانے والے بیانات مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مددگار نہیں ہوتے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں