2018 الیکشن کی تحقیقات کر لیں، اگر وہ حکومت قانونی اور آئینی تھی تو یہ حکومت بھی جائز ہے: وزیراعظم
کیا اس الیکشن میں جادوگری نہیں ہوئی؟ بیلٹ باکس نہیں بھرے گئے ؟ تحقیقات کا بہت شوق ہے تو آجا ئیں ،دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجا ئیگا:قومی اسمبلی میں خطاب آپ نے آئین کا خیال نہیں رکھا ، 14 ارکان کو فارغ کر دیا:اچکزئی، اداروں کا تحفظ آئین توڑنا ہے تو بار بار توڑیں گے ،فوج،عدلیہ کیخلاف بات نہیں کرنے دو نگا:سپیکر
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،دنیا نیوز،اے پی پی) وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کو الیکشن 2018ء سے تحقیقات کی پیشکش کردی،قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ کونسی حکومت قانونی اور کونسی غیر قانونی؟ آجائیں 2018ء سے تحقیقات کرلیتے ہیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ محمود اچکزئی کی حکومت پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن کی تحقیقات کر لیں، کیا اس الیکشن میں بھرپور جادوگری نہیں ہوئی؟ کیا بیلٹ باکس نہیں بھرے گئے ؟ کیا لوگوں کو پٹے پہنا کر اسلام آباد نہیں لایا گیا اور دھمکیاں نہیں دی گئیں؟ آپ 2018 کا الیکشن اٹھا کر دیکھ لیں، اگر وہ قانونی اور آئینی حکومت تھی تو پھر یہ بھی ایک جائز اور قانونی حکومت ہے ، اگر ان کو تحقیقات کا بہت شوق ہے تو آ جائیں شروعات 2018 سے کرتے ہیں، اس کے بعد ہم 2024 کے الیکشن کی تحقیقات پر بھی آ جاتے ہیں، بات نکلی تو پھر بہت دور تک جائے گی ، وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے جو بات کی وہ حقائق کے منافی ہے ، میں نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ اگر صرف پنجاب ترقی کرتا ہے تو وہ پاکستان کی ترقی نہیں ہے ، اگر صرف صوبہ سندھ ترقی کرتا ہے تو وہ بھی پاکستان کی ترقی نہیں ہے ، جب تک چاروں صوبے ترقی کی اس دوڑ میں برابر کے شریک نہیں ہوں گے ، وہ پاکستان کی ترقی نہیں کہلا سکتی۔
میں نے بارہا یہ بات کہی ہے ، لیکن آج انہوں نے اس کو مختلف رنگ دیا جس کا مجھے افسوس ہے ۔ بہرحال یہ ان کی اپنی ذہنی اختراع ہے ۔ امریکا ایران معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ الحمدللہ پاکستان نے وہاں بڑے خلوص اور عرق ریزی کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کیلئے اپنی بھرپور کوششیں کیں ،اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امریکا اور ایران کے درمیان نہ صرف جنگ بندی ہو چکی ہے بلکہ اگلے 60 دنوں میں ٹیکنیکل مذاکرات ہوں گے ، ہمیں پوری امید ہے کہ انشا اللہ یہ ایم او یو 60 دنوں کے اندر ایک پائیدار معاہدے میں تبدیل ہو جائے گا جس سے دنیا میں امن قائم ہو گا ، وزیراعظم نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آج آپ کو، قائد حزب اختلاف کو، اس ایوان میں موجود تمام معزز ارکان کو اور پاکستان کے 24 کروڑ عوام کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، کیونکہ اس جنگ بندی کے عمل میں پاکستان نے جو کلیدی کردار ادا کیا ہے ، وہ نہ صرف تاریخ ساز ہے بلکہ دنیا کے ممتاز اخبارات ، چاہے وہ واشنگٹن پوسٹ ہو، فنانشل ٹائمز ہو یا نیویارک ٹائمز،سب نے اپنے فرنٹ پیج پر پاکستان کے اس کردار کو نمایاں کیا ہے ، اگر ہم اربوں روپے بھی خرچ کرتے تب بھی یہ حاصل نہ کر پاتے۔
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،دنیا نیوز،اے پی پی) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان آسمان میں لٹکی ہوئی کوئی چیز نہیں بلکہ پاکستان نام ہے بلوچستان، پشتونخوا، سندھ، سرائیکی علاقے ، پنجاب اور کشمیر کا، جب ان تمام علاقوں میں خوشحالی، امن و امان اور انصاف ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا۔ ایسا جمہوری پاکستان چا ہئے جس میں آئین اور قانون کا احترام ہو، عدلیہ، پارلیمنٹ اور تمام ادارے اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کریں اور پارلیمنٹ ہی داخلہ و خارجہ پالیسی کا اصل سرچشمہ ہو۔ ملک کو بحرانوں سے نکالنے ، آئین کی بالادستی اور قومی اداروں کو مستحکم کرنے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف اور حکومت کو غیر مشروط تعاون کی یقین دہانی کروا تے ہیں ۔قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ملک کی ترقی، خوشحالی اور امن کیلئے اپوزیشن حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک اور پارلیمنٹ کی طاقت کو مضبوط کرنے کیلئے ہم ہر ممکن تعاون پر تیار ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پارلیمنٹ کی طاقت اور پاکستان کیلئے جو بھی ہم سے سپورٹ چاہئے ، ہماری طرف سے وہ سپورٹ غیر مشروط ہے ۔ ہمیں نہ کوئی پیسہ چاہئے اور نہ ہی کوئی پرمٹ، آپ بسم اللہ کریں اور پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ کی حکومت کے ڈھائی سال پورے ہونے کو ہیں،اب ٹون بدلنا ہو گی۔انہوں نے سپیکر سے کہا کہ جس انداز میں آپ نے اس ہائو س کو چلایا ،آپ نے آئین و قانون کا خیال نہیں رکھا اور چابک دستی سے اپنے 14 کولیگز کو اسمبلی سے فارغ کر دیا، لاہور کوٹ لکھپت جیل کے قیدی سارے ستر سال سے اوپر تھے ، کچھ تو خدا کا خوف کریں، آپ نے ریکارڈ قائم کیا، 5 لوگوں کو آپ نے 286 سال قید کی سزا دی ہے ، آپ نے آئین روندنے میں غیر جمہوری حکومتوں کا ساتھ دیا ، آپ کے پاس ٹائم تھوڑا ہے ،ارد گرد جو ہمارے علاقے میں ہو رہا ہے وہ بہت بڑی بربادی ہے ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ایوان میں پاکستان کی مخالفت، افواجِ پاکستان یا عدلیہ کے خلاف کسی قسم کی گفتگو کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیرِ اعظم کی موجودگی میں اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے سلامتی کے اداروں اور ملکی مفاد کا تحفظ کرنے کو آئین توڑنا کہا جاتا ہے ، تو وہ ایسا آئین بار بار توڑنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو پاکستان کی مخالفت میں یہاں بات نہیں کرنے دوں گا، آپ کو افواجِ پاکستان اور عدلیہ کے خلاف بات کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔ سپیکر نے اپوزیشن کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ باہر کھڑے ہو کر ہر گھر سے فوج بنانے اور پاکستان کے بجائے افغانستان کو ترجیح دینے جیسے بیانات کی اس ایوان میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ارکان کو مقررہ وقت سے دو گنا زیادہ وقت دے کر تقریریں کرنے دی گئیں، تب تو انہیں یہ پارلیمنٹ غیر قانونی نظر نہیں آئی، لیکن اب وہ پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں،سپیکر نے کہاکہ اپوزیشن کنفیوژن کا شکار ہے اور انہیں خود نہیں معلوم کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔ بعد ازاں اپوزیشن ارکان ایوان سے چلے گئے جس کے بعد بجٹ منظور کر لیا گیا۔