ایران نے ایٹمی پروگرام کے معائنے کی منظوری دیدی: ٹرمپ، ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا : ایرانی ترجمان
دوبارہ ناکہ بندی کیلئے جہاز موجود رہیں گے ، تاہم امکان کم،غیر منجمد کئے گئے اثاثے امانتی اکاؤنٹ میں رکھیں گے :امریکی صدر رقوم پر بیرونی شرط قبول نہیں:بقائی،لبنان میں اسرائیلی فائرنگ سے 2 شہید،ہرمز میں آمدوروفت بڑھ گئی، تیل مزید سستا
دبئی، تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے لامحدود مدت تک اپنے جوہری پروگرام کے معائنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے ، ایران کے منجمد اثاثے کھولے جانے کے بعد ان کا استعمال امریکا سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سامان خریدنے کیلئے کیا جائے گا۔ایران نے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا،ایران کا کہنا تھا کہ اس نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کے معائنہ کاروں کو واپس بلانے پر بھی اتفاق نہیں کیا۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی حکام نے سوئٹزرلینڈ میں آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی سے کوئی ملاقات نہیں کی اور نہ ہی ایران کے نقصان زدہ جوہری مراکز کے معائنے کیلئے اقوام متحدہ کے ادارے کو بلانے کا کوئی منصوبہ ہے ۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ منجمد اثاثوں کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں، فنڈز مکمل آزادی سے استعمال ہوں گے ، فنڈز کے استعمال کے طریقہ کار پر کسی بیرونی شرط کو قبول نہیں کیا جائے گا۔منجمد رقوم کا استعمال ایران اپنی قومی پالیسی کے مطابق کرے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ سوئٹزر لینڈ مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لئے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے انکار کواحتجاج اور غلط بیانی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پراپنے جواب میں کہا ایران نے مکمل طور پر اور پوری طرح مستقبل میں انتہائی سخت سطح کے جوہری معائنوں پر رضامندی ظاہر کر دی ہے (لامحدود مدت تک!!!)،یہ جوہری شفافیت کو یقینی بنائے گا،اگر وہ اس پر متفق نہ ہوتے تو مزید مذاکرات ممکن نہ ہوتے ،اس اور ایران کی جانب سے دی جانے والی دیگر اہم رعایتوں کی بنیاد پر میں نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے اور مزید بحری ناکہ بندی نہیں ہوگی، تاہم تمام بحری جہاز اپنی جگہ پر موجود رہیں گے تاکہ اگر ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنا ضروری ہوا تو ایسا کیا جا سکے ، اگرچہ اس وقت ایسا ہونے کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے ۔انہوں نے کہا ایران کے غیر منجمد کیے جانے والے اثاثے ایک امانتی اکاؤنٹ میں رکھے جائیں گے جو امریکا کے کنٹرول میں ہوگا،اور ان سے امریکا سے خوراک اور طبی سامان خریدا جائے گا، جن میں مکئی، گندم اور سویابین بھی شامل ہوں گے ۔انہوں نے کہا یہ وہ چیزیں ہیں جن کی ایران کو شدید ضرورت ہے ۔ جنیوا میں ایران کے اقوام متحدہ کے سفیر علی بحرینی نے کہا ایران واحد ملک ہے جو یہ فیصلہ کرے گا کہ اس کے غیر منجمد اثاثے کس مقصد کیلئے استعمال ہوں گے ، لہٰذا میں اس دعوے کو مسترد کرتا ہوں کہ کوئی اور ملک ان فیصلوں یا عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
بحرینی نے کہا کہ مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے اور آئندہ چند دنوں میں دو ورکنگ گروپس تشکیل دئیے جائیں گے جو پابندیوں کے خاتمے اور ایران کی جوہری سرگرمیوں پر توجہ دیں گے ۔رائٹرز کے مطابق متضاد بیانات نے اس بات کو نمایاں کیا کہ مشرق وسطٰی کو ہلا کر رکھ دینے والی جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ادھر جنوبی لبنان میں اتوار سے جنگ بندی بڑی حد تک برقرار ہے ، تاہم لبنان کے سول ڈیفنس اور سرکاری میڈیا کے مطابق منگل کو اسرائیلی فائرنگ سے 2افراد شہید ہوئے ۔ عبوری معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور منگل کو قیمتیں مزید نیچے آئیں۔امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے تحت گزشتہ روز خام تیل کی قیمت 1اعشاریہ 20ڈالرکی کمی کے ساتھ 72اعشاریہ 66ڈالرفی بیرل اوربرینٹ نارتھ سی کروڈ کی 1اعشاریہ 30ڈالرکی کمی کیساتھ 76اعشاریہ 60ڈالرفی بیرل ہوگئی۔بحری نقل و حرکت کے اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی "کپلر" کے مطابق پیر کے روز کم از کم 37 اجناس بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ، جو فروری کے آخر میں مشرقِ وسطٰی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک ریکارڈ سطح ہے ۔جبکہ ایک اور کمپنی اے ایکس ایس میرین نے پیر کے روز 42 جہازوں کی آمد و رفت شمار کی۔