آزاد کشمیر میں پاکستان مخالف بیرونی ایجنڈے کا سخت جواب دینا چاہیے : خواجہ آصف
مقبوضہ کشمیرکے عوام اور مہاجرین کی قربانیوں کو کم تر سمجھنا کشمیر کے مقصد کی نفی ،میرابیان توڑمروڑکرپیش کیاجارہا کشمیراورپاکستان کوالگ نہیں کیاجاسکتا ، کشمیریت کی پہچان قربانیاں اور جدوجہد ، پیدائشی سرٹیفکیٹس نہیں:وزیر دفاع
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر،دنیانیوز)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بیرونی ایجنڈے پرکاربند شرپسند عناصر کے خلاف دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر سے پاکستان کے خلاف اٹھنے والی بیرونی اور منفی ایجنڈے سے متاثر آوازوں کا سختی سے جواب دیا جانا چاہئے ، مقبوضہ کشمیرکے عوام اور مہاجرین کی قربانیوں کو کم تر سمجھنا کشمیر کے مقصد کی نفی کے مترادف ہے ۔ سوشل میڈیا ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ میرے آزاد جموں و کشمیر کے بحران سے متعلق ریمارکس صاف گوئی اور دیانتدارانہ تھے ، جن لوگوں کے خفیہ اور منفی ایجنڈے ہیں وہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ یہ لوگ مجھ سے کشمیر کو، پاکستان سے کشمیر کو یا پاکستان کو کشمیر سے جدا نہیں کر سکتے ، ان کشمیریوں کی قربانیاں جنہوں نے اکتوبر1947 میں ہجرت کر کے پاکستان کا رخ کیا، تاریخ میں درج ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد گزشتہ 78 سال سے قربانیوں، شہادتوں اور جیلوں میں قید رہنے کی ایک طویل داستان ہے۔
پاکستان کا کشمیرکے مقصد سے وابستگی کا ثبوت ہمارے شہدا کے خون میں موجود ہے جو 5 جنگوں میں بہایا گیا ، پاکستان کا کشمیر کے مقصد سے وابستگی کا ثبوت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت اور ریفرنڈم کے اصولی موقف پر مبنی ہے ۔ آزاد کشمیر سے پاکستان کے خلاف اٹھنے والی بیرونی اور منفی ایجنڈے سے متاثر آوازوں کا سختی سے جواب دیا جانا چاہئے ، کچھ کشمیری وہ ہیں جنہوں نے ہجرت کی قربانیاں دیں اور کچھ وہ ہیں جو آج بھی مقبوضہ کشمیر میں اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں، پاکستان کے سپاہیوں کی حفاظت میں دہائیوں سے امن میں رہنے والے آزاد کشمیر کے لوگوں کو مقبوضہ کشمیر کے عوام اور مہاجرین کی قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہئے ۔ کشمیریت کی تعریف پیدائشی سرٹیفکیٹس سے نہیں بلکہ وہ جدوجہد اور قربانیاں ہیں جو تقریبا 8 دہائیوں سے پاکستانیوں سمیت تمام لوگوں نے دی ہیں۔