پاکستان اور ایران کے تعلقات میں نئی معاشی پیشرفت کی امید

پاکستان اور ایران کے تعلقات میں نئی معاشی پیشرفت کی امید

ایرانی صدرکادورہ خطے میں سٹرٹیجک ڈپلومیسی کا نیا باب، پاکستانی کردار کو سراہا گیا

(تجزیہ:سلمان غنی)

اسلام آباد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ان کے اعلیٰ سطح وفد کا غیر معمولی اور پرجوش استقبال علاقائی صورتحال میں سٹریٹجک ڈپلومیسی کے محاذ پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ۔اس دورے کے دوران خطے میں پیدا شدہ نئی صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت، بجلی و گیس کی فراہمی اور اقتصادی شعبوں میں نئے معاہدوں کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے ۔ ماہرین کے مطابق اس دورے کی اصل کامیابی اسی صورت میں ممکن ہوگی جب دونوں ممالک اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں عملی اور قابلِ ذکر پیشرفت دکھائیں۔ ایرانی صدر اور ان کے وفد کا نور خان ایئرپورٹ پر شاندار استقبال صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول آصفہ بھٹو نے کیا۔ اس موقع پر 21 توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ پاک فضائیہ کے طیاروں نے فلائی پاسٹ کے ذریعے مہمان کا خیرمقدم کیا۔

ایرانی صدر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی جس میں خطے کی صورتحال، امریکا ایران مذاکراتی عمل اور پاکستان کے کردار پر گفتگو ہوئی۔ ایرانی وفد نے مذاکراتی عمل میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔صدر مسعود پزشکیان نے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتوں میں بھی خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستانی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ملاقاتوں میں توانائی، سرحدی تجارت اور بینکاری سہولتوں کی بہتری سمیت مختلف اقتصادی منصوبوں پر غور کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں سرحدی منڈیوں کی توسیع، قانونی تجارتی راستوں اور توانائی کے منصوبوں میں پیش رفت متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق پاک ایران تجارت کو آئندہ برسوں میں 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف پر بھی کام جاری ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان سیاسی گرمجوشی کو عملی معاشی تعاون میں تبدیل کرنا ہے ۔مبصرین کے مطابق بدلتی علاقائی صورتحال، چین کا کردار اور ایران کے عالمی تعلقات میں ممکنہ بہتری پاکستان کیلئے نئے معاشی مواقع پیدا کر سکتی ہے ۔ عالمی میڈیا بھی اس دورے کو خطے میں امن و استحکام کے تناظر میں اہم قرار دے رہا ہے ۔ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ، جس کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی ماحول کو فروغ ملا۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی صدر کا دورہ اسلام آباد نہ صرف سفارتی سطح پر اہم ہے بلکہ اس کے اقتصادی اثرات بھی مستقبل میں نمایاں ہو سکتے ہیں، خاص طور پر توانائی اور تجارتی شعبوں میں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں