سندھ ہائیکورٹ : سمگلنگ کیس کالعدم، 8 لاکھ 91 ہزار لٹر ڈیزل واپس کرنے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ : سمگلنگ کیس کالعدم، 8 لاکھ 91 ہزار لٹر ڈیزل واپس کرنے کا حکم

کسٹمز نے سرچ، ضبطی، تفتیشی کارروائیاں ایکٹ کی قانونی دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انجام دیں، آئینی بینچ آئل ٹینکرز،سیل شدہ تمام املاک کی واپسی کی ہدایت، نجی کمپنی سمیت 70 درخواست گزاروں کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ

کراچی (عبدالحسیب خان)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے کسٹمز اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا اور ضبط شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل، آئل ٹینکرز اور دیگر سیل شدہ املاک درخواست گزاروں کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو پر مشتمل آئینی بینچ نجی کمپنی سمیت 70 درخواست گزاروں کی آئینی درخواست پر جاری تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ کسٹمز حکام نے سرچ، ضبطی اور تفتیشی کارروائیاں کسٹمز ایکٹ 1969 کی متعلقہ قانونی دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انجام دیں، اس لیے یہ تمام کارروائیاں قانوناً برقرار نہیں رہ سکتیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نجی کمپنی کیماڑی میں پٹرولیم ٹرمینل چلاتی ہے جہاں حکومتی دستاویزات کے تحت تیل وصول، ذخیرہ اور تقسیم کیا جاتا ہے ۔

کسٹمز نے جھوٹی ایف آئی آر درج کرکے الزام عائد کیا کہ کمپنی نے پاکستان کوسٹ گارڈ اور دیگر سرکاری اداروں کے ڈلیوری آرڈرز کو دوبارہ استعمال کرتے ہوئے تقریباً 891,931 لٹر اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل منتقل کیا، حالانکہ تمام لین دین سرکاری نیلامیوں اور قانونی ادائیگیوں کے ذریعے ہوا تھا۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ کسٹمز اہلکار متعدد مرتبہ بغیر سرچ وارنٹ کمپنی کے احاطے میں داخل ہوئے ، ملازمین کو حراست میں لیا اور یہ کارروائیاں بدنیتی پر مبنی تھیں ۔ کسٹمز حکام نے عدالت کو بتایا کہ 13 اور 14 مئی 2026 کی درمیانی شب دو آئل ٹینکرز کو کیماڑی میں روک کر تلاشی لی گئی، جہاں ڈرائیوروں نے اعتراف کیا کہ کوسٹ گارڈ کے ڈلیوری آرڈر کے تحت پہلے ہی ڈیزل منتقل کیا جا چکا تھا اور انہی دستاویزات کو دوبارہ استعمال کیا جا رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا تفتیش جاری ہے ، اس لیے آئینی درخواست قابل سماعت نہیں جبکہ درخواست گزار ٹرائل کورٹ سے مناسب قانونی ریلیف حاصل کر سکتے تھے۔ عدالت نے کہا کہ کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 162 کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کرنا لازمی تھا، جبکہ دفعہ 163 کے تحت بغیر وارنٹ کارروائی صرف ہنگامی حالات میں محدود طور پر کی جا سکتی ہے ، اگرچہ پہلی رات دو ٹینکرز کی ضبطی کے لیے ہنگامی اختیارات استعمال کیے جا سکتے تھے ، تاہم 14 مئی سے 18 مئی تک جاری رہنے والی سرچ اور ضبطی کی کارروائیوں کے لیے کسٹمز نے کسی مجاز مجسٹریٹ سے سرچ وارنٹ حاصل نہیں کیا، جس سے پوری کارروائی قانونی طور پر مشکوک ہو گئی۔

اگر کوئی ادارہ قانونی حدود سے تجاوز کرے تو ہائیکورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اس کی کارروائی کا عدالتی جائزہ لینے کی مجاز ہے ۔عدالت نے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اگر ایف آئی آر کے متن سے ہی کوئی قابل دست اندازی جرم ثابت نہ ہو اور کارروائی قانون کے برخلاف ہو تو ہائی کورٹ آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ایف آئی آر کو کالعدم قرار دے سکتی ہے ۔ عدالت نے آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسٹمز کی سرچ، ضبطی، تحویل اور تفتیش کی کارروائیاں قانون سے مطابقت نہیں رکھتیں، لہٰذا ایف آئی آر کالعدم قرار دی جاتی ہے ۔ عدالت نے کسٹمز اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کو ہدایت کی کہ ضبط شدہ اور سیل کی گئی تمام املاک اور ہائی اسپیڈ ڈیزل درخواست گزاروں کو واپس کیا جائے اور فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں