منی لانڈرنگ ملکی معیشت اور اچھی حکمرانی کیلئے سنگین خطرہ، اداروں اور عدلیہ میں ہم آہنگی ضروری : چیئرمین نیب

منی لانڈرنگ ملکی معیشت اور اچھی حکمرانی کیلئے سنگین خطرہ، اداروں اور عدلیہ میں ہم آہنگی ضروری : چیئرمین نیب

نیب مالیاتی جرائم سے نمٹنے کیلئے پر عزم:نذیر احمد، عدلیہ کی تربیت و استعداد کار میں اضافہ ناگزیر:جسٹس انعام امین تجارتی بنیاد پر منی لانڈرنگ، کرپٹو کے غلط استعمال، یو این انسداد بدعنوانی کنونشن پر ڈپٹی چیئرمین و دیگر کی بریفنگ

اسلام آباد (دنیا رپورٹ، اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب)نے اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ کے ججز کیلئے پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی میں انسدادِ منی لانڈرنگ، مقدمات کی تفتیش، قانونی چارہ جوئی اور عالمی ڈھانچے کے موضوع پر خصوصی تربیتی نشست منعقد کی، تربیتی پروگرام کا مقصد اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے موثر نفاذ، عدالتی استعداد کار میں اضافہ اور مالیاتی جرائم سے نمٹنے کیلئے مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ چیئرمین قومی احتساب بیورو لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا منی لانڈرنگ ملکی معیشت اور اچھی حکمرانی کیلئے سنگین خطرہ ہے جس سے نمٹنے کیلئے تفتیش کے اداروں، پراسیکیوٹرز، مالیاتی اداروں اور عدلیہ کے درمیان موثر ہم آہنگی ضروری ہے۔

انہوں نے جدید مالیاتی جرائم کی روک تھام کیلئے پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے اختتامی خطاب میں اسے بروقت اور اہم قرار دیتے ہوئے کہا جدید مالیاتی جرائم سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے عدلیہ کی مسلسل تربیت اور استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے ۔ قبل ازیں ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010کی مختلف شقوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار، تجارتی بنیادوں پر منی لانڈرنگ، شیل کمپنیوں اور کرپٹو کرنسی کے غلط استعمال جیسے موضوعات پر بریفنگ دی۔

انہوں نے منی لانڈرنگ سے حاصل اثاثوں کی ضبطی اور بحق سرکار ضبط کرنے سے متعلق عدالتوں کے اختیارات پر بھی روشنی ڈالی۔ نیب کے سپیشل انویسٹی گیشن ڈویژن کے ڈی جی محمد طاہر نے فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس اور اور اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن (یو این سی اے سی)کے تحت عالمی اینٹی منی لانڈرنگ فریم ورک، متوازی مالیاتی تحقیقات اور چوری شدہ اثاثوں کی واپسی کیلئے بین الاقوامی تعاون کے طریقہ کار پر اظہار خیال کیا۔ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی ماسٹر ٹرینر نور السحر نے پاکستان کے فنانشل انٹیلی جنس یونٹ کے کردار، مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس اور goAML پلیٹ فارم کی اہمیت پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا انٹیلی جنس پر مبنی تحقیقات کامیاب استغاثہ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تقریب کے اختتام پر ججوں میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں